اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 102 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 102

102 اصحاب شافعی میں سے ابو بکر فارسی نے اس امر پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص رسول کریم علی ایم کو گالی دے اس کی حد شرعی قتل ہے، جس طرح کسی اور کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے ( فتح الباری) جو اجماع انہوں نے نقل کیا ہے اس سے صدر اول یعنی صحابہ و تابعین کا اجماع مراد ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم علیم کو گالی دینے والا اگر مسلم ہو تو واجب القتل ہے۔قاضی عیاض نے بھی اسی طرح کہا ہے فرماتے ہیں اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی رسول کریم صلی اللہ کی تو بین کرے یا آپ صلیم کو گالی نکالے تو اسے قتل کیا جائے۔اسی طرح دیگر علماء سے بھی رسول کریم میم کی تو بین کرنے والے کے واجب القتل اور کافر ہونے کے بارے میں اجماع نقل کیا ہے۔امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول کو گالی دے یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو رد کر دے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بنا پر کافر ہو جاتا ہے اگر چہ وہ خدا کے نازل کردہ تمام احکام کو مانتا ہو۔“ کیا امام خطابی فرماتے ہیں ”میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں محمد بن سحنون کا قول ہے اس بات پر علماء کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ نبی کریم صلیم کو گالی دینے والا اور آپ صلم کی تو بین کرنے والا کافر ہے اس کے بارے میں عذاب خداوندی کی وعید آئی