اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 101
101 حسن سیرت کی تعلیم قرار پایا نہ یہ کہ وہ حق رسول عالم میں تصرف کرتے ہوئے گستاخ نبی کو معاف و در گزر کرنے کی روش اختیار کریں۔بایں وجہ کوئی فرد بشر سرور کائنات حضور نبی کریم علیم کی اہانت و گستاخی کا ارتکاب کرئے اس فعل کا کسی بھی امتی یا اسلامی ریاست کو پتہ چل جائے اور وہ بغیر قیام حد کے اسے معاف کر دے تو یہ حسن خلق ہر گز نہ ہوگا بلکہ از روئے شرع یہ عمل بے جمیتی اور بے غیرتی متصور ہوگا کیونکہ بنی کریم ملی کی عزت و حرمت، عظمت و تقدس اور آداب و احترام کی محافظت و پاسبانی امت مسلمہ کی دینی وایمانی ذمہ داری میں شامل ہے۔علاوہ ازیں حضور نبی کریم علی نے اگر کسی کو بذات خود معاف فرما بھی دیا تو یہ آپ ملک کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔اسے معاف کرنے کا آپ علم کو بذات خود تو اختیار حاصل ہے لیکن ایک امتی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کوئی گستاخ و بے ادب حضور لیلی کی اہانت و تنقیص کرے تو امتی حضور عالم کے حق خاص میں از خود تصرف کرتے ہوئے اسے معاف کرتا پھرے اور اس سے درگزر کرے امت کے لئے یہ کسی بھی صورت میں جائز ہی نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے سے اس کا اپنا ایمان بھی ضائع ہو جائے گا۔“ تحفظ ناموس رسالت صفحه ۱۹۸ ۱۹۹۹ ) امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں لکھا ہے کہ کثر علماء کا موقف یہی ہے۔ابن المنذر کہتے ہیں عام علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ نبی اکرم علیم کی توہین کرنے والے کی حد قتل ہے۔امام مالک لیث احمد اسحاق اور امام شافعی کا قول یہی ہے مگر نعمان (ابو حنیفہ ) سے منقول ہے کہ اسے ( ذقی ) قتل نہ کیا جائے اس لئے کہ جس شرک پر وہ قائم ہے وہ توہین رسالت سے عظیم تر جرم ہے۔