اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 74 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 74

74 ہوئے اور اپنی چادر دست مبارک سے بطور انعام اس کے اوپر ڈال دی۔یوں یہ دشمن رسول آپ کے دربار سے معافی کے ساتھ انعام بھی لیکر لوٹا۔) سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 215, 214 بحوالہ اسوۂ انسان کامل صفحہ 566۔567 مطبوعہ مصطفے اکیڈمی لاہور ) اگر دیکھا جائے تو آنحضرت علیم کی سیرت میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں کہ دشمنان رسول نے آنحضرت علیم کے سامنے کئی کئی مرتبہ گستاخیاں کیں برا بھلا کہا اور ان کی لمبی داستانیں موجود ہیں لیکن آپ نے ان کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کیا اور درگزر فرمایا۔اس کے مقابل پر ایک بھی ایسی مثال پیش نہیں کی جاسکتی کہ آپ نے کسی کے ساتھ گستاخیاں کی ہوں اور کسی معاملہ میں زیادتی کی ہو۔اس بات میں بھی شک نہیں کہ رسول کریم صلی نے بعض لوگوں کو جو حد سے آگے گزر گئے تھے انہیں قتل کرنے کا بھی حکم دیالیکن یہ حکم صرف زبان سے گستاخانہ کلمات کہنے کی بنا پر نہیں دیا بلکہ دیکھا جائے تو ایسے لوگوں کی زبانی گستاخیوں کے ساتھ ساتھ خود رسول خدا صلی علیم اور مسلمانوں کے خلاف قتل کی سازشوں، غداری بغاوت اور فتنہ پردازیوں کی بنا پر حکم جاری کیا وہ بھی اس صورت میں کہ آپ اس وقت حاکم وقت بھی تھے اور آپ کی ایک حیثیت آزاد مملکت اسلامیہ کے حاکم کی بھی تھی۔چونکہ آپ حاکم بھی تھے اس لئے جس نے باوجود ہر قسم کی گستاخیوں اور شوخیوں اور فتنہ پردازیوں کے معافی طلب کی آپ نے انہیں معاف بھی کر دیا۔آپ کے اسوہ کی یہ مثالیں اس بات کی حد بندی کرتی ہیں کہ آ زادی رائے کی حد کہاں تک ہے اور پھر کس حد سے حاکم وقت کو کسی کی سزا مقرر کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔اس سے ایک بات یہ بھی عیاں ہوتی ہے کہ کوئی بھی شخص جو تو بین رسول تو بین اسلام یا تو بین قرآن کرے کسی کو یہ حق ہر گز حاصل نہیں کہ وہ ازخود ہی کسی کے قتل کا فتویٰ