اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 327
327 پہلوان تھا جو ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوا جسے خدا نے مقام مہدی عطا کیا تھا جو حکم اور عدل ہو کر آیا اس نے قرآن کریم کو ہاتھ میں لیا اور اس میں بیان کردہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین رسالت کرنے والوں اور اسلام پر حملہ کرنے والوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کا اعتراف اپنوں نے نہیں بلکہ بیگانوں نے بھی کیا اور وہ اصول سمجھائے جس کے ذریعہ اسلام کی حقانیت دنیا والوں پر ظاہر ہوئی اور حضرت محمد مصطفے بلی کا روشن اور پاک چہرہ مخالفین اسلام پر ظاہر ہوا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے تمام مخالفین اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے سب سے پہلے جو کتاب لکھی وہ براہین احمدیہ تھی۔آپ نے اس کتاب میں تمام مذاہب والوں کو مخاطب کیا اور دس ہزار روپے انعام کے چیلنج کے ساتھ ایک اشتہار بھی شائع فرمایا۔اس میں پیش کردہ چیلنج آج بھی اسلام کے مخالفوں کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور اسلام اور قرآن اور حضرت محمد مصطفے علم کی عالی شان کے بالمقابل اپنی مذہبی کتب سے، اپنی کتب اور اپنے انبیاء کا مقابلہ کروان کی شان بیان کرو لیکن آج تک بھی کوئی ایک بھی اس انعام کو حاصل کرنے کے لئے سامنے نہیں آیا۔اسی بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں۔میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفے سلیم سے منکر ہیں اتماما للحجہ شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے اُن سب برابین اور دلائل میں جو ہم نے دوبارہ حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء عال العالم