اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 328
328 اُسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کی ہیں اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھاوے یا اگر تعداد میں اِن کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ران سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بنگالی پیش کرنے سے عاجز ہوتا ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو اُن سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آ گیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلاغذ رو حیلے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دونگا۔مگر واضح رہے کہ اگر اپنی کتاب کی دلائل معقولہ پیش کرنے سے عاجز اور قاصرر ہیں یا برطبق شرط اشتہار کی خمس تک پیش نہ کرسکیں تو اس حالت میں بصراحت تمام تحریر کرنا ہو گا جو بوجہ نا کامل یا غیر معقول ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور رہے۔اور اگر دلائل مطلوبہ پیش کریں تو اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو کہ ہم نے خمس دلائل تک پیش کرنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس سے ہماری یہ مراد نہیں ہے جو اس تمام مجموعہ دلائل کا بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کر دیا جائے بلکہ یہ شرط ہر یک صنف کی دلائل سے متعلق ہے اور ہر صنف کے براہین میں سے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس پیش کرنا ہو گا۔“ روحانی خزائن جلد ا اشتہار صفحہ 24 تا 31 مطبوعہ لندن) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں اسلام اور قرآن کریم اور آنحضرت سلام کی توہین کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا اور ساری دنیا پر اسلام قرآن کریم اور آنحضرت علی کی زبر دست حقانیت اور صداقت پیش فرمائی اور آج تک بھی کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ کوئی اس کا جواب دیتا۔توہین رسالت کرنے والوں کو یہ آپ کا پہلا جواب تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ طریق توہین رسالت کرنے والوں کو جواب دینے کے لئے عین