اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 24
24 24 ذکر کیا اور فرمایا۔وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَفِرُونَ هَذَا سَحِرٌ كَذَّابٌ (ص آیت ۵) یعنی۔اور وہ تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس انہی کی قوم میں سے ہوشیار کرنے والا آ گیا۔اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو ایک فریبی ( اور ) جھوٹا ہے۔اس جگہ پر بھی دیکھ لیں کہ نبی کو فریب اور جھوٹا کہہ کر اس کی توہین کی گئی۔ایک جگہ فرمایا۔قَالَ الْكَفِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسحِرٌ مُّبِينٌ (يونس آیت ٣) اس آیت میں کافروں نے اللہ کے نبی کو کھلا کھلا دھوکہ باز کہہ کر اس کی توہین کی ہے۔اسی پر بس نہیں کیا گیا ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے افكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسَكُمْ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ (البقره آیت ۸۸) یعنی۔( ہر زمانہ کے لوگوں سے خطاب ہے کہ ) جب بھی کبھی تمہارے پاس رسول آیا اسے تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تم نے تکبر کیا پس بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کے قتل کے درپے تھے۔لازمی بات ہے کہ جب ایک انسان کسی کو پسند نہیں کرتا تو ہمیشہ اس کے لئے اپنے دل میں بغض اور کینہ رکھتا ہے اور اسے برا خیال کرتا ہے اور تکبر کے نتیجہ میں انبیاء سے ایسی ایسی باتیں کرتا ہے جو انہیں لوگوں کی نظروں سے گرا دے۔اسے جھٹلانے کے ساتھ ساتھ اسے قتل کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔یہ وہ تمام باتیں ہیں جو ایک نبی کی تو ہین کا باعث بنتی ہیں۔دیکھا