اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 225
225 ایک بنیادی اصول ہمارے وہ علماء کرام جنہوں نے شاتم رسول یا گستاخ رسول کی سز اقتل کے مؤقف کو اختیار کیا ہے انہوں نے جن آیات قرآنی یا حدیث رسول ملایم و روایات و درایت کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے ان کو پیش کر کے ان پر کچھ لکھنے سے قبل ایک اصولی بات پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے ہمارے ہاتھ میں تین چیزیں دی ہیں سب سے اول نمبر پر قرآن کریم ہے جو کہ اللہ کا کلام ہے جو غیر محرف ومبدل ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہی کیا ہے۔دوسرے نمبر پر سنت رسول صل للعالم ہے جو کہ آپ کا عمل ہے۔تیسری چیز حدیث ہے۔قرآن کریم کی شریعت کا نزول آنحضرت صلی کلم پر وحی کے ذریعہ ہو اور یہ ایک ایسی شریعت ہے جو قیامت تک کے لئے ہے جس میں کسی تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جیسے جیسے قرآن کریم کا نزول ہوا ویسے ویسے ہی آنحضرت معالم نے اسے خود بھی یادرکھا اور آپ کے ساتھ ساتھ صحابہ رضوان اللہ علیھم نے بھی یاد کیا۔اس کا ایک ایک لفظ خدا کا کلام ہے جس میں کسی قسم کی غلطی کا کوئی احتمال نہیں۔اس کا کوئی بھی حکم خواہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے وہ قابل عمل ہے یہ ایک کامل اور مکمل شریعت ہے جس میں کسی قسم کی کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔اس کا ہر حکم حدیث وسنت پر آخری ڈگری کا حکم رکھتا ہے۔اگر کوئی حدیث یا سنت کی کوئی بات قرآن کریم کے کسی حکم سے ٹکرا جائے تو فیصلہ قرآن کریم کے مطابق ہوگا۔اختلاف کی بنا پر اگر کوئی تو جیح ہو سکتی ہو جو قرآن کریم کے کسی حکم سے نہ ٹکرائے تو کی جاسکتی ہے جس میں انسانی عقل کا بھی دخل ہے کہ وہ خود بھی اس امر پر غور کرے اور وہ راستہ اختیار کرے جس کی طرف قرآن