اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 190 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 190

190 دلیل ہے کہ وہ کسی چیز کی پرواہ نہ کرے گا، خواہ وہ قرابت داری ہو یا پاس عہد۔جب عہد نامہ کی موجودگی میں ذلت کے باوجود یہ کام کر سکتا ہے تو غلبہ اور قدرت کی صورت میں وہ کیا کچھ نہ کر گزرے گا! بر خلاف اس شخص کے جس نے ہمارے ساتھ ایسی گفتگو نہیں کی ، عین ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد کو نہلے کی صورت میں بھی پورا کرے ، اگر چہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو مسلمانوں کے ساتھ مصالحت کر کے اپنے علاقہ میں مقیم ہوں تاہم یہ ان اہل ذمہ پر بھی بطریق اولی صادق آتی ہے جو ہمارے ساتھ دار السلام میں رہتے ہوں۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۵۲ و ۵۳) اسلام چونکہ سلامتی کا مذہب ہے اور یہ دنیا میں فساد نہیں چاہتا مشرکین کی ایسی سوچ کے با وجود انہیں سوچنے سمجھنے اور اپنی ذات پر فیصلہ کرنے کی مہلت دیتا ہے کہ وہ غور کر لیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے یا ہجرت کرنی ہے یا پھر غور وفکر کے بعد اسلام قبول کرنا ہے۔اس تعلق سے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِ اللَّهِ وَأَنَّ اللهَ مُخْزِي الْكَفِرِينَ ( التوبة آيت ۲) یعنی۔چنانچہ ملک عرب میں چار مہینے پھر کر دیکھ لو اور جان لوکہ تم اللہ کو ہر انہیں سکتے اور یہ بھی جان لو ) کہ اللہ کفار کو رسوا کر کے چھوڑے گا۔اس آیت کی تشریح میں حضرت مرزا بشیر الدین رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس آیت میں جن لوگوں کو چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے اس سے مراد مشرکین ہیں جنہوں نے مسلمانوں سے کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف عملاً جنگ جاری رکھی تھی اور جولوگ ایسے ہوں ان کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ عرب میں رہتے کیونکہ وہ لڑائی کرنے