اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 162 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 162

162 وہ کافر نہ ہوتو۔فرقہ بندیوں کو دیکھ لیں اگر لعنت کرنے والے کو قتل کرنے کا جواز اس حدیث ہ بندیوں کو دیکھ لیں۔سے نکالا جا سکتا ہے تو پھر اس حدیث سے ان تمام علماء کو قتل کرنے کا جواز بھی نکالا جا سکتا ہے جو آئے دن کسی نہ کسی مسلمان کو کفر کا فتویٰ دیتے رہتے ہیں۔الغرض یہ بات قطعی طور پر نا جائز ہے کہ کسی لعنت کرنے والے کو مرتد قرار دیکر اس کو قتل کیا جا سکتا۔حدیث میں الفاظ ہیں کہ گویا اس نے قتل کیا گویا اور سچ سچ میں بہت فرق ہوتا ہے۔اور ویسے بھی یہ عدل کے خلاف ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر مرتدین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ الْمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنَّ بِالْإِيمَانِ وَلكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُه ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الحَيُوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ (النحل آیت نمبر ۱۰۷ - ۱۰۸) یعنی۔جولوگ بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کریں سوائے ان کے جنہیں ( کفر پر مجبور کیا گیا ہو لیکن ان کا دل ایمان پر مطمئن ہو ( وہ گرفت میں نہ آئیں گے ) ہاں وہ جنہوں نے (اپنا) سینہ کفر کے لئے کھول دیا ہو ان پر اللہ کا (بہت) بڑا غضب ( نازل ) ہوگا اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ( مقدر) ہے۔اور ایسا اس سبب سے ہوگا کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کر کے اسے آخرت پر مقدم کرلیا۔اور ( نیز اس وجہ سے کہ ) اللہ کفر اختیار کرنے والوں کو ھدایت نہیں دیتا۔قرآن کریم کی ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے دین سے مرتد ہو جانے والوں کا ذکر کیا ہے اور مرتد ہونے والے لوگوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر کے بیان کیا ہے ایک تو وہ گروہ ہے جو دل سے ایمان لاتا ہے لیکن ان کی قوم ان پر اس قدر دباؤ بناتی ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان