اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 125 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 125

125 کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔قرآن کریم کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذ کر کیا ہے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا اور تیسرا منافقوں کا اور وہاں صاف طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمان موجود ہے کہ یہ منافق لوگ ایسے ہیں کہ مومنوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب یہ اپنے ساتھیوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ ہنسی ٹھٹھہ اور مذاق کر رہے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر فرما دیا ہے تو پھر منافقوں کو کافروں میں ملانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔سوال یہ ہے کہ اگر ان منافقوں کو کافر ہی مان لیا جائے تو بھی یہ دلیل کہاں سے نکل آئی کہ ایسا کرنے والے چونکہ کافر ہو گئے ہیں اس لئے ان کو قتل کردینا چاہئے۔پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ آنحضرت سلیم کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ آپ نے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کے ساتھ کیا سلوک کیا۔اگر قرآن کریم کی اسی آیت سے ایسا کہنے والے کو قتل کرنے کا اشارہ بھی ہوتا تو آپ ایسا کہنے والوں کو ضرور قتل کروا دیتے اور کوئی قتل کیا جاتا یا نہ کیا جا تا رئیس المنافقین کو ضر ور قتل کیا جاتا کیونکہ وہ شخص تو ایسی کئی گستاخیاں کر چکا تھا لیکن آپ نے اس کو بھی معاف کر دیا۔الغرض امام ابن تیمیہ نے اس آیت کو پیش کر کے الحادۃ اور المشاقة کی جو بحث اٹھائی ہے اور ایسے الفاظ استعمال کرنے والے کو کا فرٹھہرا کر اس کے قتل کو واجب قرار دینے کی جو بات کی ہے اس کا اس آیت میں کوئی ذکر بھی نہیں ملتا ہے۔بلکہ یہ آیت منافقوں کا ذکر کر رہی ہے۔اس کے آگے بھی جن آیات کو اپنی بات کی تائید میں پیش کرتے ہیں ان کا اس معاملہ سے کوئی بھی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔رح پھر امام ابن تیمیہ نے ایک اور بھی باریک نقطہ اس جگہ بیان فرمایا ہے جو کہ قابل خور ہے۔آپ نے لکھا ہے کہ بنا بریں رسول کریم علیہ اللہ کو ایذا دینے والا کا فر اللہ اور اس کے