اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 124 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 124

124 لئے دردناک عذاب ہے۔رحم امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کریم کی ایذا رسانی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور مخالفت پر مبنی ہے، اس لئے کہ ایڈا کا ذکر ہی ”المحادۃ“ کے ذکر کا موجب ہوا ہے،اس کا اس میں داخل ہونا واجب ہے اور اگر اسے تسلیم نہ کیا جائے تو کلام غیر مربوط ہو جائے گا جب یہ کہنا ممکن ہو کہ وہ محاذ ( مخالف ) نہیں ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایذا رسانی اور رسول کی مخالفت کفر کی موجب ہے اس لئے کہ اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ اس کے لئے آتش جہنم تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یوں نہیں فرمایا کہ اس کی سزا ہے ظاہر ہے کہ ان دونوں جملوں میں فرق ہے بلکہ الحادة ( مخالفت ) ہی کو عداوت اور علیحدگی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا نام کفر اور محاربہ ہے بدیں وجہ یہ لفظ تنہا کفر سے بھی سنگین تر ہے۔بنابریں رسول کریم عالم کو ایذا دینے والا کافر، اللہ اور اس کے رسول کا دشمن اور ان کے خلاف جنگ لڑنے والا ہو گا، اس لئے کہ المحادۃ کے معنی ہیں جدا ہونا، بایں طور پر کہ ہر ایک کی حدجدا ہو، جس طرح کہا گیا ہے کہ المشاقتہ یہ ہے کہ شخص ایک شق ، یعنی ایک جانب ہو جائے اور المعاداة “ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۷۳) قرآن کریم کی اس آیت میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس کا تعلق منافقین سے ہے اور اس آیت کے سیاق وسباق کی آیات کو بھی پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں منافقوں کا ذ کر چل رہا ہے کہ وہ کیسی کیسی حرکتیں کرتے ہیں غور کیا جائے تو اس میں کافر کے ذکر کوز بر دستی شامل