اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 94
94 عَصَيْنَا وَ اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيَّا بِالْسِنَتِهِمْ وَطَعْنَا فِي الدِّينِ ( النساء آیت ۴۷) یعنی۔جولوگ یہودی ہوئے ہیں ان میں سے بعض ( خدا کی ) باتوں کو ان کی جگہوں سے ادل بدل دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور باوجود اس کے ہم نے نافرمانی کی اور ( کہتے ہیں کہ) تو ہماری باتیں سُن ( خدا کا کلام ) تجھے کبھی نہ سنایا جائے اور ہمارا لحاظ کر ( یہ بات) اپنی زبانوں سے جھوٹ بولتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہیں۔روایات میں آتا ہے کہ یہود راعنا کے لفظ کو بگاڑ کر آنحضرت علیم کے سامنے بولا کرتے تھے اور اس سے ان کی نیت آپ کی تحقیر کرنا ہوتی تھی اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہود کی بد نیتی کو ظاہر کیا اور مومنوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع فرمایا جس کا ذکر سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۱۰۵ میں موجود ہے کہ اے ایمان دارو! رسول کو مخاطب کر کے راعنا مت کہا کرو اور انظرنا کہا کرو۔ایسے الفاظ کا استعمال بھی توہین رسالت کے زمرہ میں آتا ہے۔اسی طرح آنحضرت ام ایم کو کافروں نے مجنون کہہ کر بھی آپ کی توہین کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وإن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُ واليُزلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِكرَ وَيَقُو لُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُون ( سورة القلم آیت ۵۲) یعنی۔کافرلوگ قریب تھا کہ جب انہوں نے قرآن تجھ سے سنا تھا تو اپنی غصہ سے بھری آنکھوں سے دیکھ کر تجھے اپنے مقام سے پھسلا دیتے اور وہ کہتے جاتے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔اس آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کا فرلوگ آنحضرت علی ایم کو نعوذ باللہ مجنون کہہ کر آپ کی تو بین کیا کرتے تھے اسی طرح دیگر انبیاء کے بارے میں بھی ایسے الفاظ کا استعمال