اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 93 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 93

93 قرآن کریم کی ان آیات کو پڑھنے سے یہ بات صاف طور پر کھل جاتی ہے کہ انبیاء کے ساتھ ہنسی مذاق کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے ہر زمانہ میں اور ہر نبی کے ساتھ ہی ایسا ہوتا چلا آیا ہے بلکہ دیکھا جائے تو انبیاء کے سچا ہونے کی یہی بات ایک دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ لیس میں اسی استہزاء کو انبیاء کی صداقت کا نشان ٹھہرایا ہے کہ مجھے افسوس ہے بندوں پر کہ جب بھی ان کی طرف کسی نبی کو بھیجا گیا تو اس کے دور کےلوگوں نے اس کے ساتھ ہنسی کی اور مذاق اڑایا۔اس لئے انبیاء کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا یہ تو مخالفین کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے جب نبیوں کا سردار آیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور ایسا ہونا لازمی تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلیم کو یہ بات بتادی کہ آپ یہ خیال نہ کریں کہ یہ ہنسی اور مذاق صرف آپ کے ساتھ ہی ہورہا ہے بلکہ فرمایا کہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔انبیاء کے ساتھ استہزا کرنے میں وہ ساری باتیں آجاتی ہیں جن سے تو ہین انبیاء ممکن ہے نبی کی باتوں کو بگاڑ کر پیش کرنا اسکی زندگی پر اعتراض اٹھانا۔اس پر طعن کرنا نبی کو برے الفاظ سے یاد کرنا۔انبیاء کے بُرے برے نام رکھنا۔انبیاء کے نشانوں کو جھٹلانا۔انبیاء کو غلط ناموں سے یاد کرنا۔ازواج مطہرات پر انگلی اٹھانا اور ان پر الزام تراشی کرنا وغیر ہ الغرض وہ تمام باتیں جو ہجو اور عزت پر حملہ کرنے کے زمرہ میں آتی ہیں سب کی سب استہزا میں شمار ہوتی ہیں کیوں کہ لوگ ایسی باتیں انبیاء کی طرف منسوب کر کے ان سے ہنسی مذاق کرتے ہیں تا کہ ان کے ذریعہ سے نبی کو اور نبی پر ایمان لانے والوں کو دکھ دیا جائے اور ستایا جائے۔اس کی مثالیں بھی ہمیں قرآن کریم میں دکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَ