اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 90
90 خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۴۰ تا ۴۶) قرآن کریم کے راہنما اصول قیامت تک کے لئے ہیں ان میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دیکھا یہ جاتا ہے کہ بعض علماء اپنے فیصلوں اور خیالات کو قرآن کریم کی بعض آیات اور احادیث کی غلط تشریحات پیش کر کے تقویت دینا چاہتے ہیں جن کی بنیاد قرآن کریم میں دکھائی نہیں دیتی بلکہ اسرائیلی روایات کا عکس ان میں دکھائی دیتا ہے۔قرآن کریم ایک ایسا صحیفہ ہے کہ وہ جو بات ایک جگہ بیان فرماتا ہے قرآن کریم کی دوسری آیات اس کی تائید کر رہی ہوتی ہیں اور ساتھ ہی سنت نبوی اس کی شہادت پیش کر رہی ہوتی ہے۔مفسرین قرآن اگر کسی آیت کی ایسی تشریح بیان کریں جو قرآن کریم کی دوسری کسی آیت یا آیات سے ٹکراتی ہو تو لاز مادہ تشریح قابل قبول نہیں ہو سکتی بلکہ وہ چھوڑ دینے کے قابل ٹھہرتی ہے۔مخالفین اسلام کی لغو گوئی اور توہین رسالت کی بنا پر سزاؤں کے حوالہ سے علماء اسلام نے قرآن کریم سے اپنے مؤقف کی تائید میں جو دلائل پیش کئے ہیں ان کی تائید قرآن کریم سے کسی اور جگہ سے پیش نہیں کی گئی بلکہ جو ایک آدھ دلیل پیش کی ہے اس میں بھی اس بات کو مدنظر نہیں رکھا گیا کہ یہ دیکھا جاتا کہ قرآن کریم کا یہ حکم کس محل اور موقعہ کے لئے ہے۔اور توہین رسالت سے اس کا کوئی تعلق بھی ہے کہ نہیں۔بعض جگہ تو ایک آیت کے ایک حصہ کو پیش کر کے اپنے نظریہ کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی ہے اگر چہ قرآن کریم کی بعض دیگر آیات ان کے نظریہ کے خلاف اصول پیش کر رہی ہیں۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس سلسلہ میں قرآن کریم سے جو بھی پیش کریں اس کی تائید قرآن کریم کی دوسری آیات سے بھی دکھائی دے یا کم از کم سنت انبیاء سے اس کی تائید میں مثال پیش ہولیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا۔