اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 9
9 لکھی ہوئی ہے اسی طرح ایک کتاب شان مصطفی میل اور گستاخ رسول کی سزا‘ کے عنوان سے جناب قادری محمد یعقوب شیخ صاحب کی طرف سے تصنیف شدہ ہے۔اسکے علاوہ اور بھی بہت سی کتب اس مضمون کی شائع شدہ ہیں ان کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مصنفین کا موقف ایک ہی ہے اور ایک ہی طرح کے حوالے انہوں نے پیش کئے ہیں اور ایک ہی نظریہ کو پیش کیا ہے اور ان تمام مصنفین نے امام ابن تیمیہ کی کتاب کو بنیاد بنایا ہے۔اس عنوان پر لکھنے والوں نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ شاتم رسول صلی اور تو بین رسالت کرنے والوں کی سز الازمی طور پر قتل ہے۔اسی لئے غالباً انہیں کتب کو بنیاد بنا کر اور ایسے علماء کے فتوؤں کا سہارا لیکر حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کرنے والے اور شاتم رسول کے لئے قتل کی سزا رکھی ہے اور دفعہ C-295 کا اضافہ کیا گیا۔ان کتب کا مطالعہ کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام علماء نے اپنے مؤقف کی تائید میں امام ابن تیمیہ کی طرف منسوب ہونے والی کتاب کو ہی بنیاد بنایا ہے اس لئے خاکسار نے یہ کوشش کی ہے کہ امام ابن تیمیہ ہی کی کتاب کو سامنے رکھ کر اس پر قرآن کریم ،سنت اور احادیث کے حوالہ سے جواب دیا جائے اگر چہ دور حاضر کے تینوں مصنفین کی کتب کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔نیزہ کوشش کی گئی ہے کہ جو بھی حوالہ پیش کیا جائے وہ اصل کتاب سے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء احمدیت نے توہین رسالت کرنے والوں کا جس طرح سے دفاع کیا ہے اسے بھی اس کتاب کے آخر میں پیش کیا گیا ہے۔خاکسار مکرم حنیف محمود صاحب مربی سلسلہ کا بھی نہایت درجہ شکر گزار ہے کہ آپ نے ناموس رسالت پر حملوں کا دفاع“ کے عنوان سے سارا مواد ایک جگہ جمع کر دیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا کرے۔خاکسار نے ان کی کتاب سے بھی اس سلسلہ میں مدد لی ہے۔میری قارئین سے