اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 8 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 8

8 تعارف اسلام دین فطرت ہے اور قرآن کریم عین انسانی فطرت کے مطابق تعلیم دیتا ہے رسول کریم ملی علم کا اسوہ اس پر شاہد ہے آپ نے کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں دیا جسے انسانی فطرت قبول نہ کرتی ہو۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دشمنانِ اسلام ہمیشہ ہی اسلام کی حسین تعلیم پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ کسی نا کسی ضعیف یا محرف و مبدل روایت کا سہارا لے کر اسلام پر حملہ آور ہوں اور اسلام کو بدنام کریں۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض علماء اسلام نے بھی بعض ضعیف روایات کو لیکر اسے اسلامی تعلیمات کے رنگ میں پیش کیا اور بعض مستشرقین کے خیالات سے متأثر ہو کر ان کی بیان کردا روایات اور واقعات کو اپنی کتب اور تفاسیر میں جگہ دی پھر وہی روایات اور واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ بن گئے۔آگے چل کر یہی واقعات دور حاضر میں علماء اسلام کی جانب سے لکھی جانے والی کتب کا حصہ بن گئے۔اور اسلام کی حسین تعلیم پر اپنے بدنما داغ چھوڑ گئے۔جس سے دشمنان اسلام کو اسلام کی حسین تعلیم پر اعتراض کرنے کا خوب موقعہ حاصل ہوا۔دیکھا جائے تو پاکستان میں توہین رسالت کی سزا کے لئے دفعہ C-295 کا اضافہ بھی ایسی ہی بے بنیاد اور وضعی ورایات کا نتیجہ ہے جس کی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں۔یہی وجہ ہے کہ توہین رسالت کرنے والے اور شاتم رسول کی سزا قتل کے نظریہ کے پیش نظر بہت سی کتب لکھی گئی ہیں۔سب سے اہم کتاب جس کے حوالے اکثر علماء اپنی کتب میں پیش کرتے ہیں وہ امام ابن تیمیہ کی کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ ہے ایک کتاب ”شاتم رسول لام کی شرعی سزا تالیف پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الڈ راوی صاحب کی ہے۔ایک کتاب ” تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری صاحب کی طرف سے