اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 79 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 79

79 سخت گوئی اور قرآنی تعلیم قرآن کریم کی تعلیم ہمارے لئے ایک لائحہ عمل ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے میں راہنما ہے۔قرآن کریم نے بہت سے انبیاء کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان پر ایمان لانے والوں کا بھی ذکر ہے اور انکار کرنے والوں کا بھی ذکر ہے اور اس بات کو بھی محفوظ کیا ہے کہ ان کے مخالفوں نے نبیوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا اور کیسے کیسے استہزاء کئے گئے اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔(ئیس آیت ۳۱) یعنی۔ہائے افسوس ہے مجھے اپنے بندوں پر جب بھی ان کی طرف کوئی رسول بھیجا گیا اس سے صرف انہوں نے استہز ا ہی کیا۔قرآن کریم کی یہ آیت اگر ایک طرف مخالفین کے کردار کو پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف یہ انبیاء کی صداقت کو بھی پیش کرتی ہے۔انبیاء کی تاریخ کو دیکھا جائے تو کوئی ایک نبی بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کی مخالفت نہ کی گئی ہو اور اس سے ہنسی اور مذاق کر کے ان کی توہین نہ کی گئی ہو لیکن انبیاء کی تاریخ میں سے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا کی کسی نبی نے ہنسی اور مذاق اور توہین کے بدلہ میں کبھی کسی کے ساتھ ہنسی مذاق اور ان کی توہین کی ہو بلکہ ہمیشہ ہی انبیاء نے ان کے مقابل خود بھی صبر کیا اور اپنے ماننے والوں کو بھی مہر ہی کی تعلیم دی۔اگر دیکھا جائے تو ان باتوں کا سب سے زیادہ نشانہ ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطف الله اعلم کو بنایا گیا آپ کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا اور تکلیف پہنچائی گئی لیکن آپ نے ہمیشہ قرآنی تعلیم کے مطابق صبر ہی کیا اور اپنے ماننے والوں کو صبر ہی کی تلقین فرمائی۔اسی بات کی گواہی دیتے ہوئے