اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 77 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 77

77 آزادی رائے کا حق تو دیتا ہے لیکن اس کی حدود مقرر کی ہیں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سے تجاوز کرے اور ایسی باتیں دیگر مذاہب اور ان کے پیشواؤں کی طرف منسوب کرے جن سے ان کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو۔جب معاملہ یہاں تک بڑھ جائے تو وہاں سے حکومت وقت اور حاکم وقت کی حد شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کی گئی مثالوں سے ظاہر ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی کسی کے پیارے کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے تو جائزہ لینے والی بات یہ ہے کہ اگر وہی الفاظ اس کے پیاروں کے لئے استعمال کئے جائیں تو کیا وہ بھی اسے برداشت کر سکتا ہے اگر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ اسے برداشت کرے تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے آزادی رائے کے حق سے تجاوز کیا ہے۔اگر ایسے الفاظ کا استعمال کوئی زبانی یا تحریر کرے گا تو مد مقابل کو یہ تو حق حاصل ہے کہ وہ بھی اس کا مناسب رنگ میں جواب دے خواہ تحریری یا زبانی لیکن کسی کو یہ حق قطعاً حاصل نہیں کہ اس کی تحریر یا تقریر کے بدلہ میں اس کو قتل کرنے کا فتویٰ دے یہ انصاف کے خلاف ہے قرآن کریم اس قسم کی نا انصافی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی آنحضرت علی ایم کے اسوۃ سے ایسی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے۔او پر پیش کی گئی مثالوں سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت علیم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو زبانی اور تحریری طور پر آنحضور صلم کی توہین کرتے تھے ان کے مقابلہ کے لئے آنحضرت علیم کے اصحاب میں بھی ایسے صحابی موجود تھے جو توہین آمیز اشعار کا اشعار ہی میں جواب دیا کرتے تھے۔کعب بن اشرف جو اسلام اور آنحضور علم کا اشترین دشمن تھا اشعار لکھ لکھ کر آپ کے بارے میں تو بین آمیز الفاظ کا استعمال کرتا اس کے جواب میں حضرت حسان بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ اشعار کہا کرتے تھے۔(سیرت ابن ہشام جلد