اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 62
62 تھی۔اور ذلیل سے مراد ( العیاذ باللہ ) نبی کریم ملایم تھے۔اُس کی مخالفانہ کاروائیوں سے تو تاریخ اسلام بھری پڑی ہے۔جن کا بیان محدود وقت میں ممکن نہیں۔بطور نمونہ چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔شوال 3 ھ بمطابق مارچ 624 میں کفار مکہ غز وہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ابو سفیان کی سر کردگی میں تین ہزار جنگجوؤں کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کے لئے مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔آنحضرت علی کی سرکردگی میں مسلمانوں کا ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر ان کو مدینہ پر حملہ کرنے سے روکنے کے لئے احد کے میدان کی طرف روانہ ہوا۔ایسے خطر ناک اور نازک وقت میں عبد اللہ بن ابی بن سلول نے غداری کی اور راستے سے اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ واپس مدینہ لوٹ گیا۔دنیا کے ہر ایک ملک اور قوم میں غذاری کی سزا موت ہے۔مگر اس فڈ اٹ‘ اور گستاخ کو رسول کریم ملا لیا لیلی نے دنیا کے حکمر ان کی طرح موت کی سز انہیں دی بلکہ اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔قرآن کریم کے بیان کے مطابق جس کا اوپر کی ایک آیت میں ذکر کیا ہے غزوہ بنو مصطلق کے موقعہ پر اسی نے یہ اعلان کیا تھا کہ مدینہ جا کر عزت والا شخص یا گروہ ذلیل شخص یا گروہ کو مدینہ سے باہر نکال دیگا۔عبداللہ بن ابی سلول کا بیٹا جو ایک مخلص صحابی تھا جب یہ بات اُس نے سنی تو گھبرایا ہوا آنحضرت عیلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے سنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخیوں کی وجہ سے اسکے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو آپ مجھے حکم فرمائیں میں ابھی اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں لاڈالتا ہوں۔مگر آپ کسی اور کو ایسا ارشاد نہ فرمائیں کیوں کہ میں ڈرتا ہوں کہ کوئی جاہلیت کی رگ میرے بدن میں جوش مارے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو کسی وقت کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں اور خدا کی رضا چاہتا ہو بھی جہنم میں جا گروں۔