اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 61 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 61

61 حضرت مصلح موعود اس حدیث کے سلسلہ میں فرماتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی یہ عادت تھی کہ وہ رسول کریم ملایم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتے جو گستاخانہ بھی ہوتے اور عامیانہ بھی۔اور اس سے انکا مقصد محض رسول کریم علیم کی تذلیل اور آپ کا استخفاف ہوتا۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 90) اس حدیث سے یہ علم ہوتا ہے کہ مخالفین اسلام آنحضرت علی کے عہد مبارک میں گستاخیاں کرتے رہیں مگر آپ نے ہر موقعہ پر اعلی اخلاق کا نمونہ دکھلایا۔مدینہ میں آپ صاحب اقتدار تھے۔اگر آپ چاہتے تو ایسی تو بین اور گستاخی کرنے والوں کو قتل کروا سکتے تھے یا کوئی اور سزا دلوا سکتے تھے۔مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ حضرت ام المومنین کے ذریعہ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ اللہ تعالی بدزبان کو پسند نہیں کرتا۔اس لئے کسی مسلمان کو بد زبانی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ للہ تعالی کو پسند نہیں۔مدینہ میں سب سے بڑا گستاخ رسول عبد اللہ بن ابی سلول رئیس المنافقین تھا۔اس کا تعلق مدینہ کے ایک عرب قبیلہ خزرج سے تھا۔پیشخص بظاہر تو مسلمان تھا مگر اندرونی اور باطنی اور پر آنحضرت علیم کا بدترین دشمن و مخالف تھا۔وہ مسلمانوں کو باہم لڑوانے اور انہیں قصان پہنچانے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں ہونے دیتا تھا۔خفیہ سازشیں کرنا اس کا معمول تھا۔یہی وہ شخص تھا جس نے غزوہ مصطلق پر سیدنا محمدعلی کی نسبت اعلان کیا تھا کہ لَئِن جَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِ جَنَّ الْأَعْرُ مِنْهَا الْأَفَلَ ( سورۃ المنافقون سورة آیت 9) یعنی اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے ( یعنی وہ ) مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اس سے نکال دے گا۔معزز آدمی سے مراد اس کی اپنی ذات