اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 400
400 انور ایدہ اللہ نے اپنے خطبات کے ذریعہ ایسے موقعہ پر ناموس رسالت پر حملوں کے دفاع کے طریق سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”ہمارا ردعمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے جس سے آنحضرت میم کی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔آنحضرت صلم کی ذات پر ناپاک حملے دیکھ کر بجائے تخریبی کاروائیاں کرنے کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والے ہم بنتے ہیں“ اس کے بعد آپ نے عبد اللہ آتھم اور پنڈت لیکھرام کی مثالیں بیان فرمائیں کہ یہ کس طرح اسلام اور رسول پاک میم پر حملے کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے تو ان لوگوں کو سمجھایا کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائیں لیکن جب وہ اپنی شوخی میں بہت بڑھ گئے تو آپ نے ان کی بدزبانیوں کے مقابلہ پر اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے اس سے مدد چاہی اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عبرت کا نشان بناتے ہوئے پکڑا۔حضور انور نے فرمایا کہ یہ وہ اسلوب ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سمجھائے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ نے یہ بات بھی بیان فرمائی کہ اس موقعہ پر بھی ہمارا رد عمل اسی طرح کا ہے جماعت کسی کیٹیشن میں حصہ نہیں لیتی البتہ ہمارے ایک مبلغ نے اس اخبار کے لئے جس میں یہ کارٹون شائع کئے گئے تھے ایک تفصیلی مضمون لکھا اور اسے بھیجا اور کارٹون کی اشاعت پر احتجاج کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے بارے میں لکھا کہ ہم جلوس وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے لیکن ہم قلم کے جہاد میں یقین رکھتے ہیں۔اور اسے بتایا کہ ضمیر کی آزادی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کسی کی دلآزاری کی جائے۔چنانچہ اخبار نے مضمون شائع بھی کیا جس کا مثبت در عمل ظاہر ہوا۔اس کے ساتھ ہی حضور انور نے یہ بھی ھدایت فرمائی کہ مضامین لکھنے والے