اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 389
389 تباہی آپ کی منتظر ہے۔وہی تباہی جس کے متعلق آج سے گیارہ سال قبل میں نے آپ کو خبر دار (ضمیمہ خالد جون 1978 صفحہ 32) کیا تھا۔“ سن 1972ء کی بات ہے کہ ڈنمارک کے ایک پادری نے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو حضور نے اسے بھی چیلنج دیا اور مقابلہ کی دعوت دی لیکن وہ بھی آپ کے مقابلہ پر نہ 66 آیا۔عیسائی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں اس کے مقابل پر جب ہم انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں وہاں مسیح کے بارے میں ایک لفظ ابن آدم جا بجا لکھا ہوا ملتا ہے جس کے معنی ہیں آدم کا بیٹا صاف بات ہے کہ ایک طرف تو بائیبل مسیح کو آدم کا بیٹا کہتی ہے تو پھر وہ خدا کا بیٹا کس طرح بن سکتا ہے؟ اسی بات کو سمجھاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ پس عیسائیوں کو بھی حضرت مسیح کا ابن آدم ہونا تو ماننا پڑ گیا۔“ اس طرح مسیح کو خدا کا بیٹا کہنے سے عیسائی آپ کی محمد مصطفے علم پر جو برتری ثابت کرنے کی بات کر کے ہتک کرتے تھے اس کا زبردست جواب دیتے ہوئے بائیبل ہی کے حوالہ سے مسیح کو ابن آدم ثابت کیا اورمحمد علی کی مسیح پر برتری ثابت کی۔اسی طرح آپ نے جماعت میں مختلف تحریکات فرما کر جس میں دعاؤں کی تحریک خاص ہے مخالفین اسلام کا مقابلہ کرنے کی تلقین فرمائی۔اور آپ نے ایک مرتبہ فرمایا۔غلبہ اسلام کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اگر ہمارے جسموں کا قیمہ بنا دیا جاتا ہے تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں اور دنیا کو ایک نہایت بھیانک ہلاکت سے بچانے کی خاطر ہم اپنے پر ہر قسم کا دکھ اور ظلم سہنے کے لئے تیار ہیں۔“ ( خطبات ناصر جلد 5 صفحہ 425) پس دیکھا جائے تو آپ کا دور خلافت بھی ناموس رسالت کی حفاظت کرنے میں گزرا اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔