اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 382 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 382

382 فریضہ سرانجام دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سن 1944ء میں اس کتاب کا مکمل جواب تیار کر کے شائع کرنے کی تحریک فرمائی اور اس کے لئے تیں افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں مکرم مولوی ناصر الدین عبد اللہ صاحب ،مکرم مہاشہ محمد عمر صاحب اور مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب شامل تھے۔یہ تینوں نوجوان ہندی اور سنسکرت زبان کے ماہر تھے۔یہ جواب تیار کرتے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی ایڈیٹنگ فرمایا کرتے تھے۔بہت حد تک اس کتاب کا جواب تیار ہو چکا تھا لیکن تقسیم ملک کے باعث یہ جواب شائع نہ ہو سکا۔اگر چہ اس کتاب پرسندھ حکومت نے پابندی عائد کر دی اور یہ فیصلہ کیا کہ ستیارتھ پرکاش کی کوئی کتاب اس وقت تک شائع نہ کی جائے جب تک کہ اس میں سے چودھواں ادھیائے حذف نہ کیا جائے۔چونکہ اس کتاب میں دیگر مذاہب پر بھی نازیبہ حملے کئے گئے تھے اس پر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہی حصہ ستیارتھ پرکاش کا ضبط نہ ہونا چاہئے تھا جو اسلام کے خلاف ہے بلکہ وہ حصہ بھی ضبط ہونا چاہئے تھا جو عیسائیت کے خلاف ہے، جو ہندو مذہب کےخلاف ہے، جو جین مذہب کے خلاف ہے ، جو سکھ مذہب کے خلاف ہے۔کیونکہ ستیارتھ پر کاش میں ان مذاہب کی طرف بھی وہ باتیں منسوب کی گئی ہیں جوان میں نہیں پائی جاتیں یا جو خود آریہ سماج کے مسلمات میں بھی ہیں۔اگر دل دکھنا ضبطی کی دلیل ہے تو کیا سکھ کا دل نہیں دکھتا؟ کیا عیسائیوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی ؟ جس طرح مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اسی طرح سکھوں کا دل بھی دکھتا ہے۔اسی طرح عیسائیوں کا دل بھی دکھتا ہے۔پس گورنمنٹ کو چاہئے کہ اگر ضبط کرنا تھا تو ایسے سب بابوں کو ضبط کرتی جود وسرے مذاہب کے بارے میں ہیں