اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 380
380 فرمایا آپ نے اس پر اس قدر زور دیا کہ یہ جلسے عالمگیر جلسوں کی صورت اختیار کر گئے اور آج تک بھی جاری ہیں۔ان جلسوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں لوگوں کو آپ پر حملہ کرنے کی جرات اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم عالم کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہوجائے۔اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے، جب کوئی حملہ کرتا ہے یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دیگا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم عالیم کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ رسول کریم علیم کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے۔اور ہر سال خاص انتظام کے تحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے۔تا کہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں۔“ تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 29-30) اس کے علاوہ آپ نے 1939ء میں پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا بھی آغاز فرمایا اور تمام مذاہب والوں ایک کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے ہر مذہب والا اپنے اپنے مذہب کے پیشواؤں کی سیرت لوگوں کے سامنے پیش کر سکے۔اس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے مذہب کے پیشوا کی عزت لوگوں کے دلوں میں قائم ہونا شروع ہوئی اور آج تک کبھی جماعت احمدیہ ناموس رسالت انبیاء کے قائم کرنے لئے اس سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کام ناموس