اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 379
379 طرف حکومت وقت کو تو جہ دلاتے ہوئے 1927 ء میں لکھا کہ دو۔موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم گردانتا ہے جو فسادات کی نیت سے کوئی مضمون لکھے۔براہ راست تو ہین انبیاء کو جرم نہیں قراردیتا۔2۔اس قانون کے تحت صرف حکومت ہی مقدمہ چلا سکتی ہے۔3 اس قانون میں یہ اصلاح کرنا ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک قانونی کاروائی نہ کی جائے جب تک کہ اصل مؤلف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بشرطیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو۔4۔یہ قانون صوبائی ہے لہذا اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبائی حکومت ضبط کرلے تو باقی صوبائی حکومتیں بھی قانوناً پابند ہوں کہ وہ اپنے صوبہ میں اس کتاب کی طباعت یا اشاعت بند کر دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی حکومت کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔“ الفضل 19 اگست 1927 تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحہ 610-611) حضرت مصلح موعود کی اس کوشش کے نتیجہ میں حکومت نے اس امر کی طرف توجہ کی اور جب یہ معاملہ اسمبلی میں پیش ہوا تو ایک نئی دفعہ کا اضافہ منظور کرلیا گیا جس کے نتیجہ میں پیشوایان مذاہب کی عزت کے تحفظ کا قانون پہلے سے بہت زیادہ معین صورت اختیار کر گیا۔اس طرح تمام مذاہب کے پیشواؤں کی عزت کے تحفظ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی کوششیں برآئیں۔اس کے ساتھ ہی حضرت مصلح موعودؓ نے سن 1927ء میں جب رنگیلا رسول کتاب کی اشاعت ہوئی تو تحفظ ناموس رسالت کی خاطر سیرت النبی صلیم کے عنوان پر جلسوں کا آغاز