اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 373
373 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفة المسح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی ناموس رسالت کے لئے کاوشیں۔اس بات سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ یہ دور ہی ایسا تھا کہ اسلام پر چوطرفہ حملے ہورہے تھے جہاں عیسائی اسلام پر حملہ آور تھے وہاں ہندوؤں نے بھی اسلام پر اپنے حملے تیز کر دئے تھے۔اور یہ کوشش کی جارہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو دنیا سے ختم کر دیا جائے اسی لئے مخالفوں نے یہ طریق اختیار کر لیا تھا کہ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے آنحضرت علی ایم پر اور آپ کی ازواج مبارکہ پر توہین آمیز شدید حملے کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یه پیش خبری دی تھی کہ تیری ہی ذریت اور نسل سے میں تجھے ایک دینا عطا کروں گا جو اسلام کی خدمت پر معمور ہو کر ساری دنیا میں اسلام کو پھیلائے گا جسے اللہ تعالی نے مصلح موعود کے نام سے بھی یاد کیا۔حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت پر متمکن فرمایا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توہین رسالت کرنے والوں کو دندان شکن جواب دئے آپ نے بھی اسی طرح اسلام اور اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی علم پر ہونے والے حملوں کا بھر پور دفاع کیا۔رض حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔دیکھو ہندوستان میں آج کل اسلام پر خطر ناک وقت آیا ہوا ہے۔دشمن چاہتا ہے وہ اسلام کو مٹادے اور توحید کو مٹا کر شرک کی بنیاد رکھ دے اور اسلام کی جگہ ہندو مذہب قائم کردے۔وہ بت پرست اقوام جن کی گھٹی میں شرک ملا ہوا ہے آج وہ خدائے واحد کی توحید کو