اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 37
37 جوفتنوں اور بغاوتوں کی جڑ ہوتے ہیں۔اور دن بدن مفاسد کو ترقی دیتے ہیں۔اور ہماری قلم جو سر یک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح و ثناء میں چل رہی ہے اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لئے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح جھکے گا۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا معلوم کہ روز کی لڑائیوں اور بیہودہ جھگڑوں کی کہاں تک نوبت پہنچے گی۔بیشک اس سے پہلے تو بین کے لئے دفعہ ۲۹۸ تعزیرات میں موجود ہے لیکن وہ ان مراتب کے تصفیہ پا جانے سے پہلے فضول اور کمی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لئے گریز گاہ وسیع ہے۔اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی تدبیر کو منظور کریں جس کا نتیجہ سرا سرا امن اور عافیت ہے۔اور اگر یہ احسن انتظام نہ ہوا تو علاوہ اور فساد اور فتنوں کے ہمیشہ سچائی کا خون ہوتا رہے گا۔اور صادقوں اور راستبازوں کی کوششوں کا کوئی عمدہ نتیجہ نہیں نکلے گا۔اور نیز رعایا کی باہمی نا اتفاقی سے گورنمنٹ کے اوقات بھی ضائع ہونگے۔اس لئے ہم مراتب مذکورہ بالا کو آپ سب صاحبوں کی خدمت میں پیش کر کے یہ نوٹس آپ صاحبوں کے نام جاری کرتے ہیں۔اور آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہماری کتب مسلمہ مقبولہ جن پر ہم اعتقادر کھتے ہیں اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں، تفصیل ذیل ہیں۔اول قرآن شریف مگر یا در ہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کریم کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں۔کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آسکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی تفسیر ہو۔غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں۔پس ہر ایک معترض پر لازم