اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 36 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 36

36 36 قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئیند ہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہر یک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریہ وغیرہ میں سے دوامر کے ضرور پابند ہوں۔(۱) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کی ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے الہامی ہونے پر وہ ایمان رکھتا ہے وارد ہو سکتا ہو۔یعنی وہ امرجو بناء اعتراض کی ہے اور کتابوں میں بھی پایا جاتا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے۔ایسے اعتراض سے چاہئے کہ ہر یک ایسا معترض پر ہیز کرے۔(۲) دوم اگر بعض کتابوں کے نام بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے شائع ہو گئے ہوں کہ در حقیقت وہی کتا ہیں ان کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہئے کہ کوئی معترض ان کتابوں سے باہر نہ جائے۔اور ہر ایک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہو نہیں کی کتابوں کے حوالے سے کرے اور ہر گز کسی ایسی کتاب کا نام نہ لیوے جس کے مسلّم اور مقبول ہونے کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں۔اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلا تامل اس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرج ہے۔یہ التماس ہے جس کا پاس ہوتا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے ہیں۔اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو سمجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہر قوم پر اس کا اثر مساوی ہے۔اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جن سے عام خلائق کے لئے امن اور عافیت کی راہیں کھلتی ہیں۔اور صد با بیہودہ نز اعوں اور جھگڑوں کی صف لپٹتی جاتی ہے اور آخیر نتیجہ صلح کاری اور ان شرارتوں کا دور ہونا ہے