اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 356 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 356

356 دے لگیں۔بالکل اسی اصول کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے۔پادری جارج الفریڈ لیٹرائے کے اعتراضات کا جواب لیفر ائے پادری صاحب کا ذکر معجز نما عکسی ترجمۃ القرآن کے حوالہ سے ہو چکا ہے۔ان کا تقرر جب لاہور میں ہوا تو وہاں انہوں نے تقاریر اور مباحثات کے ذریعہ عیسائیت کی تبلیغ شروع کر دی اور انہوں نے ایک پروگرام کے تحت 18 مئی 1900 کو لاہور میں معصوم نبی“ کے موضوع پر ایک تقریر کی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ اگر کوئی معصوم نہی ہے تو وہ حضرت مسیح ہیں اور رسول کریم لالا لیلی کے بارے میں قرآن کریم میں آئے لفظ ذنب سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آپ نعوذ باللہ گناہ گار تھے۔اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ اگرکسی کو اعتراض ہے تو وہ میدان میں آئے اور سوال کرے۔اس مجمع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی مفتی محمد صادق صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ جوش غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی انہوں نے پادری صاحب کے ایک ایک اعتراض کا جواب دیدیتے ہوئے ان کے سبھی دعاوی کی دھجیاں بکھیر دیں۔اس پر مسلمانوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور پادری صاحب کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔مسلمان اسلام کی اس فتح کا کئی روز تک چرچہ کرتے رہے۔اور یہ شور بر پارہا کہ مرزائی جیت گئے۔پادری صاحب کو اپنی شکست سے بڑی خفت اٹھانی پڑی تھی اس کو مٹانے کے لئے انہوں نے ایک اور اشتہار دیا جس میں لکھا کہ وہ 25 مئی کو زندہ رسول“ پر پھر لیکچر دیں گے۔اس اشتہار سے مسلمانوں میں بڑا جوش پھیل گیا۔اس کی اطلاع جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچی اگر چہ آپ اس وقت علیل تھے لیکن اسلام اور عیسائیت کے درمیان اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے آپ میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور آپ نے زندہ رسول کے عنوان پر ایک لا