اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 340
340 تذکرہ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 42-43) اس طرح ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شخص کے اسلام پر اعتراضات کا جواب دیا اور دوسری طرف جب اس شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار 20 فروری 1886 کے جواب میں آپ علیہ السلام کے تین سال کے اندراندر بلاک ہو جانے کا اشتہار دیا تو آپ نے بھی اللہ تعالیٰ سے اس کی بلاکت کی خبر پا کر اس کے چھ سال کے عرصہ میں بلاک ہو جانے کی پیشگوئی کی جو کہ لفظاً لفظاً پوری ہوئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو تو بین رسالت اور تو مبین اسلام کرنے پر عبرت ناک سزا دی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناموس رسالت پر حملوں کا زبردست دفاع کیا۔چشمہ معرفت کی تصنیف آریہ سماج والوں نے ایک مذہبی کا نفرنس کر کے اس میں اسلام اور آنحضرت علی ایم پر بے جا اور ناپاک الزامات لگائے اور قرآن کریم کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔حضرت مسیح موعور علیہ السلام نے اس کے جواب میں کتاب چشمہ معرفت تصنیف فرمائی اور آریوں کی طرف سے کی گئی تضحیک اور توہین کا جواب دیا گیا۔اگر چہ یہ کتاب جنوری 1908 کے شروع ہی میں لکھی جا چکی تھی لیکن اس کی اشاعت 15 مئی 1908ء کو ہوئی۔اس کتاب کے پہلے حصہ میں حضور علیہ السلام نے ان دعاوی کار و فرمایا ہے جوڑ اکٹر بھاردواج سیکریٹری آریہ سماج لاہور نے اپنی تقریر میں وید کے بارے میں کئے تھے۔دوسرے حصہ میں ان حملوں کا رد کیا گیا جو انہوں نے قرآن کریم اور آنحضرت علی ایم پر کئے تھے۔اسی طرح کتاب کے آخر پر وہ مضمون بھی ہے جسے حضور نے تصنیف فرمایا تھا جو کہ اس آریہ سماج کی مذہبی کا نفرنس میں پڑھا گیا تھا۔حضور نے اس کتاب میں تمام غیر مذاہب والوں کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا۔