اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 338
338 مبنی اشعار کہے تو آپ نے اس کا جواب دینے کے لئے حضرت حسان بن ثابت کو بلایا اور فرمایا کہ کعب کے ان اشعار کا جواب دیں تو حضرت حسان بن ثابت نے ان اشعار کا جواب اشعار ہی میں دیا جیسا کہ پہلے بھی اس کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توہین رسالت کرنے والوں کو اسی طریق سے جواب دیا جس طریق سے انہوں نے اسلام اور آنحضرت علیم کی شان پر حملہ کیا تھا۔اور یہ ایک مرتبہ نہیں ہوا بلکہ جب جب بھی کسی بد باطن نے ایسی حرکت کی آپ علیہ السلام نے اسی وقت اس کا جواب دیا۔پنڈت لیکھرام آریہ سماج ہی سے تعلق رکھنے والے پنڈت لیکھر ام پیشاوری کا شمار بھی انہیں لوگوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اسلام اور حضرت محمد مصطف علیلی لیلی اور آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف رکیک حملے کرنے میں مصروف دکھائی دیتے تھے۔بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ شخص پنڈت دیا نند کے بعد زہر افشانی کرنے اور آنحضرت علم کے خلاف کیچڑ اچھالنے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے میں پیش پیش تھا۔اس کی زبان رسول پاک مالی اور دیگر انبیاء کے خلاف ہمیشہ تیز چھری کی طرح چلتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے تو اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ تا یہ اپنی بد باطن روش سے باز آجائے لیکن بجائے باز آنے کے آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔جب اس کی شوخیاں انتہا تک پہنچ گئیں اور والآزاری کی ساری حدیں پار کردیں تب آپ نے اللہ تعالی سے علم پا کر اس کے چھ سال کے عرصہ میں بلاک ہو جانے کی پیشگوئی فرمائی۔اور یہ شخص اپنی بے باکانہ شوخیوں کی بنا پر مقررہ معیاد کے اندر اندر بلاک ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔پس خدا نے مجھ کو اطلاع دی کہ وہ تو گوشت یعنی زبان کی چھری اسلام پر چلا تار ہا ہے مگر