اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 33
33 اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے۔کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمیں نصیب کئے۔اور نہایت بدذاتی ہوگی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں۔بلا شبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں۔اور اگر چہ گورنمنٹ کی عنایات سے ہر ایک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے۔لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں۔اور اگر عمداً آپ نہ اٹھاویں تو ان کی بدقسمتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کی اپنی عام مہر بانیوں کی وجہ سے مذہبی آزادی کا ہر ایک قوم کو عام فائدہ دیا ہے اور کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا۔لیکن جن مذاہب میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں اور ان کے اصول صرف انسانی بناوٹ ہیں اور ایسے قابل مضحکہ ہیں جو ایک محقق کو ان کی بیہودہ کتھا اور کہانیاں سن کر بے اختیار نہی آجاتی ہے۔کیونکر ان مذاہب کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جھا سکتے ہیں اور کیونکر ایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو اس حقیقی خدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام قانون قدرت کے ہر ایک صفحہ میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے ہم نے خود محض منصف مزاج عیسائیوں سے خلوت میں سنا ہے کہ جب ہم مسیح کی خدائی کا بازاروں میں وعظ کرتے ہیں تو بعض وقت مسیح کے عجز اور اضطراب کی سوانح پیش نظر آجانے سے بات کرتے کرتے ایسا انفعال دل کو پکڑتا ہے کہ بس ہم ندامت میں غرق ہی ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کو خدا بنانے والا کیا وعظ کرے گا