اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 308
308 طعن بنایا اور آپ صلیم کی عیب چینی کی ، جس طرح ان طعن دینے والوں نے کیا تھا۔جب ان احادیث صحیحہ کی روشنی میں ثابت ہوا کہ رسول کریم علیم نے ان لوگوں کے قتل کا حکم دیا جو طعن زنی کرنے والے شخص کی جنس میں سے تھے، خواہ کہیں بھی ہوں ، آپ نے یہ بھی بتایا کہ وہ تمام مخلوقات سے بدتر اور منافقین میں سے ہیں، لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ شیعی کی روایت کا مفہوم درست ہے کہ دراصل یہ قتل کے مستحق ہیں۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۲۵۶) عجیب سی بات کی ہے بات کوئی چل رہی ہے جواب کسی اور بات کا دیا جا رہا ہے اور دو باتوں کی ملا کر ایک دلیل جس کا کسی بعد کے زمانہ سے تعلق ہے بیان کی جارہی ہے جو کہ ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔اسی حوالہ سے کتاب ”شاتم رسول کی شرعی سزا“ کے مصنف نے روایت درج کی ہے جس سے بات کھل جاتی ہے کہ اصل واقعہ کیا ہے اور کن کے بارے میں بات کی گئی تھی اور مسلم کی روایت ہے۔لکھا ہے کہ ایک آدمی گھنی داڑی ؛ پھولے ہوئے رخسار والا ؛ آنکھیں اندر دھنسی ہوئی ؛ اونچی جبین اور مونڈے ہوئے سر والا آ کر کہنے لگا اے محمد علی سلیم اللہ سے ڈرو۔تو رسول اللہ صل الم نے فرما یا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے۔اور اللہ نے مجھے زمین والوں پر امانتدار بنایا ہے اور تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے۔پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔تو قوم میں سے ایک شخص نے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی جو کہ غالباً حضرت خالد بن ولید تھے ، تو رسول کریم مالیہ نے فرمایا اس آدمی نسل سے ایک قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اور اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر ترکش سے نکل جاتا ہے اگر میں ان کو پاتا تو