اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 309
309 انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا“ ( صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب مؤلفۃ القلوب والخوارج جلد سوم صفحه ۸۲،۸۱) اس حدیث میں کہیں نہیں آیا کہ اس شخص کو قتل کرنے کی اجازت دی گئی یا سے قتل کیا گیا بلکہ یہ فرمایا کہ اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہو نگے جن کی صفات بیان کی گئی ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں انہیں پاتا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا۔کیوں قتل کرتا اس کی وجوہات بیان فرما دیں اس میں کہاں پایا جاتا ہے کہ توہین رسالت کی بنا پر انہیں قتل کیا جاتا۔اس واقعہ کو بیان کر کے امام ابن تیمیہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ چونکہ اس شخص کی نسل سے جس نے تو بین رسالت کی ہے پیدا ہونے والوں کو قتل کرنے کی بات ہے اس لئے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کو بھی قتل کیا جائے۔بڑی عجیب وغریب منطق ہے جس کی قرآن و سنت نبوی اور حدیث سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔الغرض ایسے جس قدر بھی واقعات احادیث کے حوالہ سے بیان کئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک واقعہ سے بھی یہ شہادت نہیں ملتی کہ آنحضرت علی نے کسی ایک شخص کو بھی صرف تو بین رسالت کی بنا پر یا ہجو گوئی کی بنا پر قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔بلکہ اکثر واقعات میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جن کو ان کے سنگین جرائم کے پیش نظر قتل کرنے کا حکم بھی دیا تھا اگر انہوں نے خود رسول کریم علیم تک رسائی حاصل کر کے معافی طلب کی ہو یا کسی صحابی کی مدد سے رسائی حاصل کر کے امان کی دورخواست کی ہو تو آپ نے اسے معاف کر دیا اور امان بخش دی۔یہ میرے پیارے آقا حضرت محمد مصطفے عالم کا اسوہ ہے اور آپ مالی کے رحمت اللعالمین ہونے کی نشانی ہے، آپ کی زندگی میں کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ آپ مالی میم نے قصاص سے ہٹ کر کسی کے قتل کا حکم دیا اور اس نے آ کر آپ سے معافی طلب