اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 307
307 والے ایک شخص کے بارے میں آنحضرت ہی سے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب فرمائی لیکن آپ نے منع فرما دیا۔انہیں واقعات کا ذکر قرآن کرم نے بھی کیا ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ مِنْهُم مَّنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَتِ ، فَإِنْ أَعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَّمْ يُعْطُوا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ (التوبة آيت (۵۸) یعنی۔اور ان میں سے کچھ (منافق) ایسے ہیں جو صدقات کے بارہ میں تجھ پر الزام لگاتے ہیں۔اگر ان صدقات میں سے کچھ ان کو دیدیا جائے تو وہ راضی ہو جاتے ہیں ، اور اگر ان میں سے انہیں کچھ نہ دیا جائے تو فوراً خفا ہو جاتے ہیں۔یہ آیت ان لوگوں کا حال بیان کر رہی ہے جو آنحضرت علیم پر الزام لگانے کی گستاخی کرتے ہیں اور ایسے لوگ آپ کے سامنے ہوتے تھے لیکن آپ نے کسی ایک کے بارے کیں بھی یہ حکم صادر نہیں فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔اگر اسلام میں گستاخ رسول کی سزا قتل ہی ہوتی تو آپ سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا تھا جو اللہ کے حکم کی پاسداری نہ کرتا لیکن آپ نے کسی بھی گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ہمیشہ معاف فرما یا اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال بھی گزرا کہ ایسا گستاخ قتل کئے جانے کے قابل ہے اور اس نے آپ مالی مالیہ سے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی تو بھی آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں تو ہین رسالت کرنے والے کی سز اقتل نہیں۔ان تمام دلائل کے ہوتے ہوئے امام ابن تیمیہ کی کتاب میں ایک بڑی انوکھی بات بیان کی گئی ہے لکھتے ہیں کہ ”اس میں کوئی اختلاف نہیں ، اسکی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے رسول کریم علی ایم کو مورد