اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 302
302 کعب بن زہیر کا نام شامل تھا۔اگر ان کے بھائی بجیر بن زہیر نے اپنے بھائی کو خط لکھا تھا تو انہیں دیگر بجو گوئی کرنے والوں کے قتل کئے جانے کے ذکر کے ساتھ یہ لکھنا چاہئے تھا کہ اسی بنا پر تمہارے قتل کئے جانے کا بھی حکم فرمایا ہے۔لیکن ایسا کوئی ذکر اس خط میں نہیں کیا گیا۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کسی اور کا ذکر کرتے یا نہ کرتے اس بات کا ذکر ضرور کرنے کی تمہارے قتل کئے جانے کا حکم صادر فرمایا ہے لیکن ایسا کوئی تذکرہ اس خط میں موجود نہیں ہے۔پھر جس بات کی دلیل کے لئے اس خط کا ذکر کیا ہے وہ مقصد کو پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔کیونکہ آنحضرت بیل ایام نے ام ہانی کے ان کے لئے امان مانگنے پر انہیں امان دیدی۔ہاں امان مانگنے پر بھی امان نہ دی جاتی اور انہیں قتل کر دیا جاتا تو ہی یہ اس بات کی دلیل ٹھہر سکتی تھی کہ ہر ہجو گو کو قتل کرنا لازمی ہے۔ہجو گوئی کے باوجود قتل نہ کرنا بلکہ امان بخشنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں جو گوئی کی سز اقتل نہیں۔اور توہین رسالت کرنے والے کی سزا قتل نہیں۔جبکہ امام ابن تیمیہ ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ پھر قبل اس کے کہ اس پر قابو پایا جاتا وہ تو بہ کر کے اسلام لا یا اگر چہ وہ حربی کا فر تھا، تاہم اس نے اپنے اشعار میں معذرت خواہی کی ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۲۱۱) ایک طرف تو امام ابن تیمیہ یہ لکھتے ہیں کہ توہین رسالت کرنے والے کی تو بہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔اور نہ ہی اسے تو بہ کرنے کے لئے کہا جائے گا اور یہاں خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ قبل اس کے کہ اس پر قابو پایا جا تاوہ تو بہ کر کے اسلام لایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ہجو گوئی اور توہین رسالت سے تو بہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور خط سے یوں ظاہر ہوتا ہے کی بھائی نے تو بہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور انہوں نے تو بہ کر لی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے شخص کو تو بہ کرنے کے لئے بھی کہا جائے گا۔پھر ہجو گوئی سے بڑا جرم ان کا حربی ہونا ہے