اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 30 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 30

30 50 تھے۔یہ دور ایسا تھا کہ اس میں ایک دوسرے کے خلاف ایک دوڑ لگی ہوئی تھی اس کے نتیجہ میں جہاں قلم اور زبان کی جنگ جاری تھی اس کے ساتھ ہی مذہبی جنون رکھنے والے بعض لوگوں نے فتنہ وفساد برپا کرتے ہوئے ایک دوسرے پر حملے بھی شروع کر دئے تھے حکومت کے لئے اس کے بنا اور کوئی چارہ نہ رہا تھا کہ وہ ان مذہبی جنون رکھنے والوں کے خلاف کوئی قانون بنائے جس سے ایسے خون ریز حملہ کرنے والوں کو قانون کے دائرہ میں لا کر انہیں ایسا کرنے سے روکا جاسکے چنانچہ جب ہندوستان میں حکومتی نظام کو بہتر رنگ میں چلانے کے لئے ۱۸۶۰ ء میں قانون بنائے گئے تو اس مذہبی جنون کو دبانے اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے پر حملہ کرنے والوں کے خلاف بھی قانون میں ایک دفعہ شامل کی گئی۔ایڈین پینل کوڈ میں دفعہ ۲۹۶۲۹۵ اور ۲۹۸ ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی سے روکنے کے لئے تھیں۔ان دفعات میں جن باتوں کو شامل کیا گیا تھا وہ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں اور ان کے مذہبی پروگراموں میں بے جا دخل اندازی کو سزا اور جرمانہ کے طور پر کھا گیا تھا۔لیکن دیگر مذاہب والے آنحضرت صلی اور آپ کی ازواج مطہرات پر جس طرح کے حملے کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے تھے ان سے مخالفین کو باز رکھنے کے لئے کوئی شق قانون میں شامل نہ کی گئی تھی۔بالکل یہی حال دیگر مذاہب کا بھی تھا اگرچہ کچھ کم۔ایک دوسرے کے مذاہب پر یہ حملے ایسے تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے اور یہ ضرورت دکھائی دیتی تھی کہ اس قسم کے اوچھے حملوں سے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے کچھ ایسے اصول مرتب کئے جائیں جس سے انبیاء کی عصمت کو تحفظ مل سکے اور لوگوں کو ایسے انگیخت کرنے والے خیالات سے روکا جاسکے جس کے نتیجہ میں آئے دن فرقہ وارانہ فسادات کی بنیاد پڑتی ہے۔موجودہ دور میں جسے امن قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا ان مذہبی نزاعوں