اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 297 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 297

297 ۱۲ - نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کا قتل 71 امام ابن تیمیہ اور شفیق الرحمن صاحب نے بھی اپنی کتاب میں ان ہر دو کے قتل کو بھی تو بین رسالت کرنے والوں کے ساتھ جوڑا ہے اور ساتھ ہی واقدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ غر وہ بدر سے مدینہ واپس جاتے ہوئے آپ علیم نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کو قتل کرنے کا حکم دیا، اس لئے کہ یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے شدید ترین دشمن، کفر کے سردار اور جنگی مجرموں میں سے تھے۔‘ ( شاتم رسول کی شرعی سز اصفحہ ۱۹۶) ان کے قتل کی جو وجوہات ہیں وہ خود ہی بیان کر دی گئی ہیں۔دشمن ہونا کفر کے سردار ہونا تو ایک معمولی بات ہے سب سے بڑا جرم خود ہی بتا رہے ہیں کہ یہ جنگی مجرموں میں سے تھے۔جو بھی جنگی مجرم ہو اس کی سزا قتل ہی ہوا کرتی ہے۔اور اس بات سے سب واقف ہیں کہ یہ دونوں ہی جنگ بدر میں کافروں کی طرف سے شامل تھے۔اسی لئے جنگی مجرم کہلائے۔اور یہ ایسے مجرم تھے کہ اپنے جرموں پر نادم بھی نہ تھے۔جب نضر بن حارث کے قتل کی اطلاع اس کی بہن کو ملی تو اس نے ایک مرتبہ لکھا جن کے دواشعار کا ترجمہ اس طرح ہے۔محمد صل لالیم اپنے قبیلے میں ایک شریف ترین انسان ہیں اور جواں مرد و ہی ہے جو قبیلے کا شریف ترین انسان ہو۔اے محمد صل علیم اگر اس مقتول پر رحم کھا کر اس کو چھوڑ دیتے تو آپ کا کوئی نقصان نہ پہنچتا کیونکہ شریف آدمی کبھی ایسے شخص پر بھی احسان کردیتا ہے جو اس کے نز دیک گردن زدنی ہو۔( لکھا ہے کہ ) آنحضرت علی نے جب یہ شعر سنے تو آپ آبدیدہ ہو گئے اور اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہوگئی پھر آپ نے فرمایا اگر اس کو قتل کرانے سے پہلے میں یہ شعر سن پاتا تو اس کو معاف کر دیتا