اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 298 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 298

298 مطلب یہ ہے کہ ان شعروں کو بطور سفارش کے قبول کر کے اس کو امان دیدیتا۔یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نضر کے قتل کرانے پر نادم ہوئے یا پچھتائے کیونکہ رسول کریم علی ایم جو کچھ بھی حکم فرماتے تھے اور جو کچھ کرتے تھے وہ حق اور صرف حق ہوتا تھا۔“ ) سیرت حلبیہ جلد دوم نصف آخرار دو صفحه ۵۱ - ۵۲) آنحضرت علیم کا یہ فرمانا کہ اگر نضر کے قتل سے پہلے میں یہ شعر سن لیتا تو میں اسے معاف کر دیتا ، یہ بات آپ کی شفقت اور رافت کی نشاندہی کرتی ہے آنحضور عالم کا یہی طریق تھا کہ چاہے کوئی بڑے سے بڑا مجرم بھی ہوتا اگر وہ آپ سے معافی طلب کرتا یا کوئی صحابی رسول کریم علیم سے اس کی سفارش کرتا تو آپ اسے امان دیدیتے تھے (سوائے ان کے جن پر حد قائم ہوئی ہو ) ایسی کئی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ کسی نے معافی طلب کی ہو یا کسی نے ایسے مجرم کو امان دینے کی سفارش کی ہو تو بھی آپ نے اسے قتل کروا دیا ہو۔آپ صلیم کا یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام میں سوائے ان کے جن پر حد قائم ہوتی ہو جن حدود کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ، شائم رسول کو قتل کرنے کا قرآن کریم میں کسی جگہ بھی ذکر موجود نہیں ، اس لئے آپ مالی سلیم نے تو بین رسالت کرنے والے کسی بھی شخص کے قتل کا کبھی حکم نہیں دیا۔جن لوگوں کے بھی قتل کا حکم دیا وہ دیگر سنگین جرائم کے مرتکب تھے جن کی سزا صرف قتل ہے۔لیکن بعض ایسے مجرموں کو بھی قتل کا حکم ینے کے باوجود معافی طلب کرنے یا امان طلب کرنے پر آپ صلیم نے انہیں معاف فرما دیا اورامان دیدی۔عقبہ کے بارے میں ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ اس شخص نے ایک مرتبہ آنحضرت لام کی دعوت کی آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک کہ عقبہ