اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 288
288 ہجو گوئی کی سزا قتل کی دلیل کے طور پر ابن خطل کے قتل کو بھی بیان کیا گیا ہے اور لکھا صحیح بخاری و مسلم میں بطریق زمری از انس مروی ہے کہ رسول اکرم بیلی یہ فتح مکہ والے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ نے آہنی خود پہن رکھی تھی۔جب آپ ملا ہم نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو 66 (صحیح بخاری حدیث نمبر ۱۸۴۶ صحیح مسلم حدیث نمبر ۱۳۵۷) اس واقعہ کے بارے میں امام ابن تیمیہ کی کتاب میں درج ہے کہ ابن خطل کے واقعہ سے فقہاء کی ایک جماعت نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ رسول کریم علی اہلیہ کو گالی دینے والا مسلمان بھی ہو تو اسے حدا قتل کیا جائے۔اس پر اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ ابن خطل حربی تھا اس لئے اسے قتل کیا گیا۔“ الصارم المسلول على شاتم الرسول صفحه ۲۰۰) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ فقہاء نے تو لکھ دیا لیکن کوئی حوالہ پیش نہیں کیا کہ کون سا فقہی ہے جس نے یہ استدلال لیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں گالی دینے والے یا ہجو کرنے والے کو قتل کرنے کا تو کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا۔پھر حربی بھی اس لئے نہیں ہوا کیونکہ اس نے مسلمانوں کا لشکر دیکھ کر ہی جنگ کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا جیسا کہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دیکھا اور سمجھا کہ لڑائی ہونے والی ہے وہ اس قدر مرعوب ہوا کہ اس پر کپکپی طاری تھی ، یہاں تک کہ کعبہ پہنچا، اپنے گھوڑے سے اترا اور ہتھیار پھینک دئے۔وہ بیت اللہ میں آکر اس کے پردوں میں داخل ہو گیا۔“