اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 286
286 یعنی۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور علی نے فرمایا مسلمان کا خون درست نہیں مگر تین صورتوں میں ایک تو جو محصن ہو کر زنا کرے وہ سنگسار کیا جائے۔اور دوسرے وہ شخص جو کسی شخص کو قصد آمارڈالے تو وہ قتل کیا جائے گا تیسرے وہ شخص جو اسلام سے پھر جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے پس وہ قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا قید کیا جائے۔حدثنا ابو قلابة (فی حدیث طویل) فو الله ما قتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احداً قط الا فى احدى ثلاث خصال رجل قتل بجبريرة نفسه او رجل زنی بعد احصان او رجل حارب الله و رسوله وارتد من الاسلام» ( بخاری کتاب الدیات۔باب القسامۃ جلد سوم صفحہ ۷۴۸) یعنی ہم سے ابوقلابہ نے بیان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کی قسم آنحضرت علی نے تو کسی شخص کے خون کرنے کا حکم نہیں دیا جب تک وہ ان تین باتوں میں سے کسی بات کا مرتکب نہ ہو یا تو ناحق خون کا مرتکب ہوا اپنے جرم کی سزا میں قتل کیا جائے۔یا محصن ہو کر زنا کرے یا اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرے اسلام سے پھر جائے۔۴- حدثنی سلمان ابو رجاء مولى ابي قلابة عن ابي قلابة۔۔۔۔۔فقال (عمر بن عبد العزیز) - - ما تقول يا عبد الله بن زید۔۔۔قلت ما علمت نفسا حل قتلها فى الاسلام الا رجل زنی بعد احصان او قتل نفسا بغیر 66 نفس او حارب اللہ و رسولہ صلی اللہ علیہ و سلم۔“ (صحیح بخاری - کتاب التفسير - باب انما جزاء الذين يحاربون الله و رسوله آية جلد دوم صفحه ۸۴۰)