اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 280 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 280

280 واقعہ ابن ابی سرح - امام ابن تیمیہ نے ایک دلیل ابن ابی سرح کے واقعہ سے پیش کی ہے۔تاریخ میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو آپ نے سب لوگوں کو معاف فرما دیا سوائے چند اشخاص کے جن کی تعداد گیارہ بیان کی جاتی ہے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ان کو قتل کرد وا گر چہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں“ ان کے اسماء اس طرح سے ہیں۔رض ا۔عبداللہ بن ابی سرح۔اسے حضرت عثمان بن عفان جو کہ عبداللہ بن ابی سرح کے رضائی بھائی تھے اپنے ساتھ لیکر آنحضرت علی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے معافی کی درخواست کی تو آپ نے معاف فرما دیا۔۲۔ابن خطل۔اس کو قتل کیا گیا۔۳۔۴۔ابن خطل کی دولونڈیاں جو اس کے ساتھ شرارتوں میں شامل تھیں ان میں۔ایک قتل ہو گئی اور دوسری کے لئے رسول کریم یا ایلیم سے امان طلب کی گئی تو آپ نے امان دیدی اور اسے معاف فرما دیا۔۵ عکرمہ بن ابی جہل۔اس کی بیوی نے آنحضر عالم کے حضور حاضر ہو کر اس کے لئے معافی طلب کی تو آپ نے معاف فرما دیا۔۶۔حویرث بن نقید۔آنحضرت صل تعلیم کی سخت ہجو کیا کرتا تھا۔اور اشعار بناتا تھا۔رض آنحضرت علی ایم کی دولڑکیوں فاطمہ اور ام کلثوم کو حضرت عباس اپنے ساتھ مدینہ لے جارہے تھے تو اس شخص نے ہبار بن الاسود کے ساتھ شامل ہو کر اونٹ کو نیزہ مارکرلڑکیوں کو نیچے گرا دیا تھا۔( زرقانی علی مواہب اللہ نیہ جلد ۲ صفحہ ۳۱۵) اسے قتل کیا گیا تھا۔