اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 276 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 276

276 نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ان دونوں قبیلوں میں آپسی لڑائی صلح حدیبیہ سے پہلے سے جاری تھی۔صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں ہی ان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا اس میں خزاعہ قبیلہ کے لوگ مسلمانوں کے حلیف ہوئے تھے اور بنو بکر کو قریشیوں کی ہمدردی مل گئی تھی۔اس طرح بنو بکر نے اس موقعہ کو غنیمت جان کر خزاعہ قبیلہ سے بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی اس پر بنو بکر نے شبخون مارا اور معاہدہ کی خلاف ورزی کی جو بعد میں فتح مکہ کا باعث ہوئی۔اس آپسی چپکلش کا ذکر امام ابن تیمیہ خود بھی فرما رہے ہیں کہ ”بنو بکر پہلے ہی خزاعہ سے خون کا مطالبہ کر رہے تھے یہ جملہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں قبیلے پہلے ہی سے ایک دوسرے کے حریف تھے۔تیسری بات یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کو واقدی کے علاوہ اور کوئی بھی اس طرح سے بیان نہیں کرتا۔البتہ ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو بکر اور خزاعہ میں یہ رقابت چل ہی رہی تھی کہ اسلام آکر ان دونوں میں حائل ہو گیا اور اب ان کی توجہ اسلام کی طرف منعطف ہو گئی۔پھر جب رسول اللہ علیہ اور قریش کے مابین صلح حدیبیہ وقوع پزیر ہوئی تو جو شرطیں جانبین میں طے ہوئیں جیسا کہ مجھ سے زہری نے عروہ بن زبیر نیز ہمارے علماء میں سے منصور بن محزمہ،مروان بن حکم وغیرہ کے واسطے بیان کیا ، ان میں ایک شرط یہ تھی کہ جو شخص رسول اللہ علیم کے عہد میں ہونا پسند کرے شامل ہو جائے۔اور جو قریش کے عہد میں شامل ہونا چاہے شامل ہو جائے۔اس شرط کے نتیجہ میں قبیلہ بنو بکر قریش کے عہد میں اور بنو خزاعہ رسول اللہ صلیم کے عہد میں شامل ہو گئے۔ابن اسحاق نے کہا پھر جب یہ صلح ہوئی ( اور صلح میں قریشیوں کی ہمدردی بنو بکر کومل گئی ) تو بنوبکر کے قبیلہ بنو ویل نے یہ موقعہ غنیمت سمجھا اور بنو اسود بن رزن کے بدلے کے لئے بنی خزاعہ سے بدلہ لینے کا ارادہ کیا کہ خوں بہا وصول کر لیا جائے جنہیں انہوں نے قتل کر دیا تھا، چنانچہ نوفل