اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 264 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 264

264 ( شرح مواہب اللہ نیہ لعلامہ زرقانی جلدا )۔یہ وہ شہادت ہے جو مسلمان محققین نے جن میں بہت سے خود واقدی کے ہمعصر تھے پوری پوری تحقیق کے بعد دی ہے۔اب ہمارے یو پین محققین خود سوچ لیں کی ان کا دل پسند مؤرخ کس شان کا انسان ہے۔ہم نہیں کہتے کہ واقدی کی ہر روایت غلط ہے۔یقینا اس کی روایتوں کا بیشتر حصہ صحیح ہوگا۔مگر جس شخص کے صداقت و عدالت کا یہ حال ہے جواو پر بیان کیا گیا ہے وہ اپنی کسی روایت میں بھی جس میں وہ اکیلا راوی ہے یا جس میں وہ دوسرے راویوں کے خلاف بات کہتا ہے کسی عقلمند کے نزدیک قابل حجت نہیں سمجھا جاسکتا۔واللہ اعلم بہر حال ہماری تحقیق میں محمد بن عمر واقدی با وجود ابتدائی مؤرخوں میں ہونے کے ہرگز قابل اعتبار نہیں ہے۔اور جہاں تک خالص سیرت کی کتب کا تعلق ہے صرف ابن ہشام اور ابن سعد اور ابن جریر طبری ہی وہ تین ابتدائی مؤرخ ہیں جنکی کتب پر آنحضرت اللہ الیہ کی سیرت و سوانح کی بنیاد بھی جانی چاہئے۔“ (سیرت خاتم النبیین ملا للعلم صفحه ۳۶ تا ۳۹ شائع کرده نظارت نشر و اشاعت قادیان (+1) اس جگہ واقدی کے بارے میں یہ نوٹ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ آگے آنے والے واقعات میں بھی واقدی کے حوالہ سے بات ہوگی کیونکہ وہ لوگ جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ واقدی سے زیادہ محبت رکھتے ہیں جبکہ واقدی اپنے زمانہ کے لوگوں کے نزدیک بھی جھوٹا اور مکذب مانا گیا ہے۔اب اس روایت ہی کو دیکھ لیں کہ اؤل جو روایت درج کی گئی ہے جو کہ ایک مختصرسی روایت تھی اس کے بارے میں بھی یہ نوٹ درج کیا گیا ہے کہ اس حدیث کو وضع کرنے میں محمد بن حجاج متہم ہے۔“ اس کے بالمقابل واقدی نے جو اس واقعہ کوجس تفصیل سے