اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 255 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 255

255 امام ابن تیمیہ نے ایک حدیث درج کی ہے لیکن اس حدیث پر زیادہ تبصرہ نہیں کیا۔البتہ دیگر علماء نے اس کو اپنے مؤقف کو طاقت دینے کے لئے خوب کھینچا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہے کہ (مَنْ سَبَ نَبِيًّا فَقْتُلُوهُ وَمَنْ سَبَ أَصْحَانِ فَاجْلِدُوْهُ) رح یعنی جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کردو اور جو میرے صحابی کو گالی دے اسے کوڑے لگاؤ امام ابن تیمیہ نے اس حدیث کو پیش تو کیا ہے لیکن اس کے حوالہ سے تعلق سے لکھا ہے کہ المعجم الصغیر للطبرانی (۳۹۳/۱، راقمحدیث X ۶۵۹) اس کی سند میں عبید اللہ بن محد عمر متہم بالکذب ہے، اسے علامہ بیشمی نے ضعیف ، ابن حجر منکر اور علامہ البانی نے موضوع قرار دیا ہے۔( مجمع الزوائد ۲۶۳/۶ ،لسان المیز ان ۱۱۲/۴، الضعیف ، رقم الحدیث ۲۰۶) الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۱۵۴، ۱۵۵) جناب پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی نے تو یہ حدیث یہاں سے لیکر اس پر اس طرح سے بحث کی ہے کہ گویا ان کے ہاتھ میں شاتم رسول کی سزا قتل کی بہت بڑی دلیل آگئی ہے۔جب کہ دیکھا جائے تو امام ابن تیمیہ نے اس روایت کو پیش تو کیا ہے لیکن اس پر زیادہ بحث نہیں کی۔اس کی وجہ صاف ہے کہ اس روایت کے بارے میں خود ہی لکھ رہے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف بھی ہے اور اس کے راویوں میں ایک راوی جھوٹا بھی ہے۔ایک نے اسے منکر بیان کیا ہے اور ایک اسے موضوع قرار دے رہا ہے اور پھر متقین اور غور وتد بر کرنے والوں نے اس حدیث کو ضعیف احادیث میں شامل کیا ہے۔ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے اس روایت کو قابل اعتبار کس طرح مانا جا سکتا ہے جب کہ یہ روایت قرآن کریم اور دیگر روایات کے بھی بر