اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 221
221 نکلتا ہے یعنی تم بے شک لکھا کرو کیونکہ خدا کی قسم میری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے حق اور راست ( یہاں روایات کے لکھے جانے پر جو بحث کی گئی ہے اسے طوالت کی بنا پر چھوڑتا ہوں البتہ آپ نے حدیث اور سیرت کی روایات میں جو بنیادی فرق بیان کیا ہے اسے درج کرنا مناسب خیال کرتا ہوں تا کہ آئندہ صفحات میں جب اس سلسلہ میں بات کی جائے گی تو معاملہ کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو ) آپ تحریر فرماتے ہیں حدیث وسیرت کی روایات میں ایک بنیادی فرق۔اس اصولی بحث کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گو مسلمان مصنفین نے اپنی روایات کی پڑتال میں روایت و درایت ہر دو قسم کے اصول کو علی قدر مراتب ملحوظ رکھا ہے مگر انہوں نے ہر قسم کی روایت کے لئے ایک ہی معیار نہیں رکھا بلکہ وہ ایک دانشمند محقق کی طرح اس غرض و غایت کے مناسب حال جس کے لئے کوئی روایت مطلوب ہوتی تھی اپنی معیار کو نرم یا سخت کرتے رہے ہیں۔یعنی بعض علوم میں اپنا معیار سخت رکھا اور بعض میں نرم۔مثلاً حدیث میں جہاں عقائد و اعمال کا تعلق تھا محد ثین نے بڑی سختی کے ساتھ روایات کو پرکھا ہے اور اپنے معیار کو بہت بلند رکھا ہے۔لیکن سیرت و تاریخ وغیرہ میں اتنی سختی نہیں کی ، چنانچہ علامہ علی بن برہان الدین حلسمی اپنی سیرت میں لکھتے ہیں کہ لا تخفى أنّ السّيرَ تَجْمَعُ الصَّحِيحَ وَالضَّعِيفَ وَالْمُرْسَلَ وَالْمُنقَطِعَ - ( سیر مطلبیہ جلدا صفحه ۱) د یعنی یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ سیرت کی روایتوں میں صحیح اور ضعیف اور مرسل اور منقطع سبھی قسم کی روایتیں شامل ہیں۔“