اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 217 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 217

217 ہے۔درایت خواہ کیسی ہی اچھی چیز ہو مگر اس کے ساتھ دو خطر ناک کمزوریاں بھی لگی ہوئی ہیں۔اول یہ کہ اس کا تعلق استدلال کے ساتھ ہوتا ہے اور استدلال ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں اختلاف رائے کی بہت گنجائش ہے۔دوسرے یہ کہ درایت کی بنازیادہ تر انسان کے سابقہ تجربہ اور معلومات پر ہوتی ہے اور تجربہ اور معلومات ایسی چیزیں ہیں کہ روز بدلتی رہتی ہیں کیونکہ اس میں ہر وقت وسعت اور ترقی کی گنجائش ہے ان وجوہ کی بنا پر درایت کے پہلو پر زیادہ بھروسہ کرتا اپنے اندر ایسے خطرات رکھتا ہے جنہیں کوئی دانا شخص نظر انداز نہیں کر سکتا۔مثلا ایک شخص کسی روایت کو قرآن شریف کی کسی آیت کے خلاف سمجھ کر رڈ کردیتا ہے ،مگر ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص اسے کسی قرآنی آیت کے خلاف نہ پائے بلکہ وہ دونوں کی ایسی تشریح کر دے کہ ان کے درمیان کوئی تضاد نہر ہے۔یا مثلا ایک شخص ایک روایت کو کسی ثابت شدہ حقیقت کے خلاف سمجھتا ہے ،مگر ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرے شخص کے نزدیک وہ چیز جسے ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھا گیا ہے۔وہ ثابت شدہ حقیقت نہ ہو۔یا ایک شخص ایک روایت کو انسانی حجر بہ اور مشاہدہ کے خلاف سمجھتا ہے، مگر ہوسکتا ہے کہ دوسرا شخص جس کا تجربہ اور مشاہدہ زیادہ وسیع ہے وہ اسے اس کے خلاف نہ سمجھے وغیرہ ذالک۔ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ درایت کے پہلو پر زیادہ زورد بینا نہ صرف اصولاً غلط ہے، بلکہ علمی ترقی کے لئے بھی ایک بہت بھاری روک ہے اور اس پر زیادہ زور دینا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے محدود علم اور محدود تجربہ اور محدود مشاہدہ اور محدود استدلال سے ساری دنیا اور سارے زمانوں کے علم کو نا پنا چاہتے ہیں۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ نظریہ دنیا کی علمی ترقی کے لئے ایک سم قاتل سے کم نہیں۔اگر ابتدائی مسلمان محدث یا مؤرخ درایت پر اس قدر زور دیتے جتنا میور صاحب اور ان کے ہم عقیدہ اصحاب چاہتے ہیں کہ دینا چاہئے تھا تو یقیناً با ء اسلام کے متعلق بہت سی مفید معلومات کا ذخیرہ ہمارے ہاتھ سے نکل