اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 216 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 216

216 اس حدیث سے بھی درایت کے پہلو کا استعمال نمایاں طور پر ظاہر ہوتا ہے یعنی حضرت عائشہ نے حضرت عمر جیسے جلیل القدر انسان کی روایت کو صرف ایک بالمقابل روایت بیان کر دینے سے ہی رڈ نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی اپنے خیال میں اس کے غلط ہونے کی قرآن شریف سے ایک دلیل بھی دی۔ہمیں اس جگہ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حضرت عائشہ کا خیال درست تھا یا کہ حضرت عمرؓ کا۔صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ مسلمان محققین صرف ایک روایت کوسن کر اسے قبول کر لیتے تھے۔کیونکہ حق یہ ہے کہ وہ پوری طرح درایت کو کام میں لاتے اور ہر چیز کو اپنی عقل خداداد کے ساتھ تول کر پھر اسے قبول کرتے تھے اور اس بنا پر بعض اکابر صحابہ تک میں باہم اختلاف ہو جاتا تھا۔درایت کے کمزور پہلو یہ چار مثالیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں اور جوصرف نمونہ کے طور پر درج کی گئی ہیں ورنہ اس قسم کی مثالیں اسلامی تاریخ میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ان میں آنحضرت صلیم کے چار جلیل القدر صحابیوں کے فعل سے بھی قطعی طور پر ثابت ہے کہ ابتدائے اسلام سے ہی درایت کا پہلو روایت کے پہلو کے ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور مسلمان نخستین پوری دیانتداری اور آزادی کے ساتھ درایت کے اصول کو اپنی روایت کی تحقیق اور پڑتال میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اسی قسم کی مثالیں بعد کے زمانوں کے متعلق بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر ہم اپنے اس مضمون کو زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہتے کیو کہ ایک عقل مند انسان کے لئے اسی قدر کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر ہمارے معترضین کا یہ منشاء ہے کہ ہر حال میں درایت کے پہلو کوترجیح اور غلبہ ہونا چاہئے اور خواہ ایک بات اصول روایت کے لحاظ سے کیسی ہی پختہ اور مضبوط ہو اور اگر درایت کے پہلو کے لحاظ سے مشکوک نظر آتی ہے تو ہر صورت اسے رد کر دینا چاہئے تو یہ خیال نہ صرف بالکل غلط ہے بلکہ علمی ترقی کے لئے بھی سخت مضر اور نقصان دہ