اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 211 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 211

211 سچا نہیں سمجھ لینا چاہئے۔بلکہ ہر جہت سے تحقیق کر کے معلوم کرنا چاہئے کہ حقیقت کیا ہے، چنانچہ حدیث میں آنحضرت صلیم فرماتے ہیں کہ۔كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ تُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (صحیح مسلم جلد ا باب النهى عَنِ الْحَدِيثِ) یعنی ایک انسان کے جھوٹا ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ جو بات بھی سنے اسے بلا 66 تحقیق آگے روایت کرنا شروع کر دے۔“ اس حدیث میں گوروایتی تحقیق کی طرف بھی اشارہ ہے ،مگر اصل مقصود روایتی تحقیق ہے جیسا کہ بگل شمع کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں۔یعنی محض کسی بات کا سننا اس کے قبول کئے جانے کا باعث نہیں بنتا چاہئے بلکہ دوسری جہات سے بھی غور کرنا چاہئے کہ آیا جو خبر میں پہنچی ہے وہ قابل قبول ہے یا نہیں، بلکہ اس حدیث میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو شخص تحقیق کرنے کے بغیر یونہی ہر سنی سنائی بات آگے روایت کر دیتا ہے وہ جھوٹ کی اشاعت کا ایسا ہی ذمہ دار ہے جیسا کہ جھوٹ بولنے والا شخص۔الغرض قرآن شریف و حدیث دونوں اس اصول کو بیان کرتے ہیں کہ ہر خبر کی تصدیق کے متعلق روایت و درایت دونوں پہلو مد نظر رہنے چاہئیں، چنانچہ اس اصول کے ماتحت حدیث میں کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ صحابہ اور ان کے بعد آنے والے مسلمان محققین نے ہمیشہ روایت کے پہلو کے ساتھ درایت کے پہلو کو بھی مدنظر رکھا ہے اور بسا اوقات روایتی لحاظ سے ایک روایت کے مضبوط ہونے کے باوجود درایت کی بنا پر اسے رد کر دیا ہے۔مثلاً حدیث میں آتا ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلعم الوضوء ما مشت النار