اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 210 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 210

210 خبر لانے والا کیسا ہے اور تبینوا کے لفظ میں درایت کا پہلو مڈ نظر ہے یعنی دوسری جہت سے بھی خبر کی اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو۔پھر فرمایا۔اِنَّ الَّذِينَ جَاءَوُ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ۔۔۔لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا۔۔۔۔۔وَ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا انْتَكَلَّمَ بِهَذَا، سُبْحَانَكَ هَذَا بُهتان عَظِيمٌ (سورة نور آیت ۱۲ - ۱۷) یعنی جولوگ رسول خدا کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ کے خلاف بہتان لگانے میں شریک ہوئے ہیں وہ اسے مسلمانوں! تمہیں میں سے ایک پارٹی ہیں مگر تمہیں چاہئے تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کے متعلق نیک گمان کرتے۔پس کیوں نہ ہوا کہ تم نے اس بہتان کے سنتے ہی یہ کہہ دیا کہ خدا تعالیٰ پاک اور بے عیب ہے۔یہ تو ایک صاف بہتان نظر آتا ہے۔“ اس آیت میں صراحت کے ساتھ درایت کے اصول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ صحابہ کو اس بات پر توبیخ کی گئی ہے کہ خواہ حضرت عائشہ پر الزام لگانے والے بظاہر مسلمان ہی تھے، مگر جب تم حضرت عائشہ کے حالات سے اچھی طرح آگاہ تھے اور تم جانتے تھے کہ وہ خُدائے پاک کے رسول کی بیوی اور دن رات آپ کی صحبت میں رہنے والی ہے تو تمہیں چاہئے تھا کہ ان ساری باتوں کو دیکھتے ہوئے اس خبر کو سنتے ہی بہتان اور افتراء قرار دیکر ٹھکرا دیتے۔گویا اس آیت میں ضمناً یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک روایت کے متعلق صرف یہ دیکھ کر کہ اس کے راوی بظا ہر اچھے لوگ ہیں اسے نہیں مان لینا چاہئے بلکہ خداداد عقل کے ماتحت دوسری باتیں بھی دیکھنی ضروری ہیں۔اور اگر دوسری باتیں روایت کو مشتبہ قراردیں تو اسے قبول نہیں کرنا چاہئے۔اسی قرآنی اصل کے ماتحت حدیث میں بھی یہ تاکید آتی ہے کہ محض کسی کی بات کو سن کر اسے